السلام علیکم !جناب اعلی میں ایک بات کی وضاحت چاہتا ہوں ! شب معراج کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا کوئی ڈیٹ فکس ہے یا کسی حدیث میں ڈیٹ (تاریخ) کے بارے میں نشاندہی کی گی ہے ؟ کیونکہ پاکستان میں ستائیس (27) رجب کو رات میں قیام ہوتا ہے اور رات عبادت میں گزاری جاتی ہے۔ جبکہ سعودیہ میں ایسا کچھ نہیں۔ برائے مہربانی اس بارے میں روشنی ڈالیے !
اس سلسلے میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام سے کسی مستند طریق پر کچھ منقول نہیں بلکہ اس واقعہ کی تاریخ کے بارے میں کافی اختلاف ہے اگر چہ ایک قول ۲۷ رجب کا بھی ہے ،مگر اس رات میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ و تابعین سے خصوصیت کے ساتھ عبادات کرنا منقول نہیں، اس لیے کسی خاص ذکر و تسبیح یا طریقہ عبادت کو اس رات کے ساتھ مخصوص و مختص کرنے اور اُسے باعث اجر و ثواب سمجھنے وغیرہ سے احتراز لازم ہے۔
وفي تفسير القرطبي: لقول ابن شهاب، على أن ابن شهاب قد اختلف عنه كما تقدم. وقال الحربي: أسري به ليلة سبع وعشرين من شهر ربيع الآخر قبل الهجرة بسنة. (10/ 210)
و في التفسير المظهري: قال البغوي قال مقاتل كانت ليلة الاسراء قبل الهجرة بسنة يقال كان فى رجب وقيل فى شهر رمضان اھ (5/ 399)
و في تفسير روح المعاني: وكذا اختلف في شهره وليلته فقال النووي في الفتاوى: كان في شهر ربيع الأول، وقال في شرح مسلم تبعا للقاضي عياض: إنه في شهر ربيع الآخر اھ (8/ 8) والله اعلم بالصواب