محترم مفتی صاحب! السلام علیکم! میں ہجری دن کے آغاز کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں، آیا یہ مغرب کے بعد شروع ہوتا ہے یا فجر کے بعد؟ میرا مطلب ہے کہ رمضان میں جب ہم نمازِ تراویح ادا کرتے ہیں تو وہ اگلے روزے کیلیے سمجھی جاتی ہے، اسی طرح اگر کوئی جمعرات کے دن مغرب کے بعد سورہ کہف کی تلاوت کرے آیا یہ جمعہ کے دن کیلیے شمار ہوجائے گی؟
اگرچہ ہجری تاریخ غروب سے شروع ہوتی ہے، مگر دن اور رات دونوں میں فرق ہے، اس لیے جن چیزوں کے بارے میں صراحۃً ’’یوم‘‘ کے الفاظ مذکور ہیں، اس سے مراد صبح صادق سے لیکر غروبِ آفتاب تک کا وقت ہے، اس لیے جس عمل کیلیے صراحۃً ’’یوم‘‘ میں ادائیگی مذکور ہو اسے غروبِ آفتاب کے بعد ادا کرنے پر وہ فضیلت نہیں ملے گی، جہاں تک سورۂ کہف کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں دن اور رات دونوں کی روایات ملتی ہیں، اس لیے ان میں سے کسی بھی وقت اس کا پڑھنا اجرِ موعود کا باعث ہوسکتا ہے۔
ففی المشکوة المصابیح: وعن ابی سعیدؓ ان النبی ﷺ قال من قرأ سورة الکہف فی یوم الجمعة أضاء له النور مابین الجمعتین۔ (ص۱۵۹) وفی المرقاة تحته: وروی الدارمی من قوله موقوفًا: من قرأها لیلة الجمعة اضاء له النور فیما بینه وبین البیت العتیق اه (ج۴، ص۶۷۸)
وفی الردّ تحت (قوله واعلم ان الليالی تابعة للأیام) أی کل لیلة تتبع الیوم الذی بعدها، الا تری أنه یصلی التراویح فی أول لیلة من رمضان دون اول لیلة من شوال اه (ج۲، ص۴۵۲) واللہ اعلم بالصواب!