فدک کیا ہے؟ شیعہ اور سنّی مذہب میں فدک کیا ہے؟براہِ کرم تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
5. فدک مدینہ سے کچھ فاصلے پر ایک باغ تھا، جو نبی کریمﷺ نے اپنی حیات میں ذاتی اور گھریلو ضروریات وغیرہ کے لیے مخصوص فرمایا تھا اور اپنی حیاتِ مبارکہ میں اس سے منتفع ہوتے رہے ، جب آپﷺکا ارتحال ہوا تو حضرت فاطمہؓ نے ذاتی طور پر اور حضرت عباسؓ وغیرہ کے ذریعے حضرت ابوبکرؓ سے بطورِ میراث اس حصہ کو لینے کا مطالبہ کیا جس پر حضرت ابوبکرؓ نے نبی کریمﷺ کی حدیث سنائی کہ آپؐ نے فرمایا کہ ہم میراث چھوڑ کر نہیں جاتے، جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
اور پوری نرمی اور ملاطفت کے ساتھ ان کو سمجھایا اور پھر مرتے دم تک انہوں نے اس سلسلہ میں کوئی بات نہیں کی اور بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ راضی ہو کر اُٹھے، یہ ہے فدک کا واقعہ اور اس کی حقیقت ،جس کو بعض فِرَق غلط رنگ میں پیش کر کے امّتِ مسلمہ کو صحابہ کرامؓ رضی اللہ عنہم سے بدظن کرنے کی سعی لاحاصل کر رہے ہیں۔ ( بحوالہ بخاری)
ففی صحيح البخاري قال: أخبرني عروة بن الزبير، أن عائشة أم المؤمنين - رضي الله عنها - أخبرته، أن فاطمة - عليها السلام - ابنة رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ، سألت أبا بكر الصديق بعد وفاة رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ، أن يقسم لها ميراثها، مما ترك رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مما أفاء الله عليه، فقال لها أبو بكر: إن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «لا نورث، ما تركنا صدقة»، فغضبت فاطمة بنت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ، فهجرت أبا بكر، فلم تزل مهاجرته حتى توفيت، وعاشت بعد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ستة أشهر، قالت: وكانت فاطمة تسأل أبا بكر نصيبها مما ترك رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من خيبر، وفدك، وصدقته بالمدينة، فأبى أبو بكر عليها ذلك، وقال: لست تاركا شيئا، كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يعمل به إلا عملت به الخ(4/ 79)-