میں نے سنا ہے کہ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے لکھا ہے کہ اگر نماز میں کتے، بلیوں کا خیال آجائے تو نماز ہوجاتی ہے اور نبی کا خیال آئے تو نماز نہیں ہوتی، اس کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ کیا یہ بات صحیح ہے؟ اگر ہے تو کیوں؟ برائے مہربانی مجھے اس کا جواب جلد دیجیے تاکہ میرا ذہن مولانا کے بارے میں صاف رہے۔
سوال میں مذکور بات مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کسی کتاب میں نہیں، یہ بات ان کی طرف منسوب کرنا درست نہیں، بلکہ سراسر بہتان ہے، البتہ دیوبند بننے سے قبل ایک بزرگ حضرت مولانا سید احمد شہید بریلویؒ گزرے ہیں، ان کے ملفوظات جو مولانا محمد اسماعیل شہید اور مولانا عبد الحی رحمہما اللہ نے جمع کیے ہیں، ان میں اس طرح کی بات ملتی ہے، مگر اس کو سیاق و سباق سے کاٹ کر گستاخی پر مبنی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تفصیل کیلیے ملاحظہ ہو ’’عباراتِ اکابر‘‘ حصہ اوّل مؤلفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر صاحبؒ۔ واللہ اعلم بالصواب!