یاجوج ماجوج کی قوم کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ انہوں نے اپنی دیوار توڑلی ہے، کیونکہ ایک صحیح حدیث کے مطابق اللہ کے نبی نے خواب میں دیکھا تھا کہ یاجوج ماجوج نے ایک سوراخ کرلیا ہے دیوار میں جس پر بعض افراد کی رائے یہ ہے کہ وہ آج کل کسی مہذب قوم کی طرح دنیا میں ہوں گے، جیسے روسی اور چینی قوم ہے تو کیا یہ عقیدہ رکھنے سے بندہ کافر تو نہ ہوگا اور یہ عقیدہ کہ وہ قیامت کے نزدیک ظاہر ہوں گے جیسے کہ احادیث میں آیا ہے؟
قرآن وحدیث میں موجود تفصیلات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یاجوج ماجوج دو قومیں ہیں جو سد ذوالقرنین کے پیچھے آباد ہیں اور قربِ قیامت میں جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا میں نزول ہوگا تو وہ ظاہر ہوں گے اور دنیا میں فساد مچائیں گے، اس لئے یہ خیال رکھنا کہ یاجوج ماجوج اس وقت ایک مہذب قوم (روسی ، چینی)کی طرح دنیا میں آباد ہیں، احادیث مبارکہ کی تصریحات کے خلاف معلوم ہوتا ہے، اس لیے یہ نظریہ رکھنا درست نہیں، مگر اس کی وجہ سے انسان دائرۂ اسلام سےخارج نہیں ہوتا۔
قال اللہ تعالی في القرآن الکریم: ﴿قَالُوا يَاذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا ۔ آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا ۔ فَمَا اسْطَاعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْبًا﴾ (الکھف: ۹۴، ۹۵،۹۶،۹۷)۔
وفي تفسیر الجلالین: ﴿إذا فتحت﴾ بالتخفيف والتشديد ﴿يأجوج ومأجوج﴾ بالهمز وتركه اسمان أعجميان لقبيلتين ويقدر قبله مضاف أي سدهما وذلك قرب القيامة ﴿وهم من كل حدب﴾ مرتفع من الأرض ﴿ينسلون﴾ يسرعون اھـ
وفي الحاشية: تحت قوله: وذلك قرب القینة ٲي بعد نزول عیسی ۔ علیه السلام ۔ ٳلی الأرض ثم یھلکون بدعائه علیھم اھـ (ص:۲۷۷قدیمي)۔
وفي صحیح الإمام مسلم: عن النواس بن سمعان، قال: ذكر رسول الله - صلى الله عليه وسلم - الدجال ذات غداة (ٳلی قوله) فبينما هو كذلك إذ أوحى الله إلى عيسى: إني قد أخرجت عبادا لي، لا يدان لأحد بقتالهم، فحرز عبادي إلى الطور، ويبعث الله يأجوج ومأجوج، وهم من كل حدب ينسلون اھ۔ (۲/۴۰۱)۔ واللہ أعلم بالصواب!