مفتی صاحب! ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آب ِزم زم کس طرح شروع ہوا؟
وادئی مکہ میں جب حضرت ہاجرہ اور ان کے صاحبزادہ اسماعیل علیہ السلام جب بھوک و پیاس سے بیتاب ہونے لگے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ نمودار ہوا جس نے اس مقام پر اپنا پر مارا تو وہاں سے چشمہ پھوٹ گیا اور پانی اُبلنے لگا ، حضرت ہاجرہ نے مٹی کے ذریعہ اس کو چاروں طرف سے روکنے اور جمع کرنے کی کوشش کی اور لفظ ’’ زم زم‘‘ کے ذریعہ اُسے ٹھہرنے کا حکم دیا ، اس طرح اس پانی کی ابتداء ہوئی اور زم زم اس کا م نام پڑ گیا۔
ففی صحيح البخاري: عن سعيد بن جبير، قال ابن عباس: أول ما اتخذ النساء المنطق من قبل أم إسماعيل،(إلی قوله) فلما أشرفت على المروة سمعت صوتا، فقالت صه - تريد نفسها -، ثم تسمعت، فسمعت أيضا، فقالت: قد أسمعت إن كان عندك غواث، فإذا هي بالملك عند موضع زمزم، فبحث بعقبه، أو قال بجناحه، حتى ظهر الماء ، فجعلت تحوضه و تقول بيدها هكذا، و جعلت تغرف من الماء في سقائها و هو يفور بعد ما تغرف. قال ابن عباس: قال النبي - صلى الله عليه وسلم- : " يرحم الله أم إسماعيل، لو تركت زمزم - أو قال: لو لم تغرف من الماء، لكانت زمزم عينا معينا " قال: فشربت و أرضعت ولدها۔(4/ 142)۔