،السلام علیکم:
میں نے بروز اتوار 28 اپریل 2024 صبح 8 بجے پبلک سکول سکھر میں لیکچرار اسلامیات گریڈ 17 کا ٹیسٹ دیا تھا، جس میں دو سوالوں پر میرا اور سندھ پبلک سروس کمیشن شعبہ امتحان کا اختلاف ہے، درخواست ہے کہ تحقیق کر کے فتویٰ صادر فرمایا جائے، کہ میرا موقف درست ہے یا سندھ پبلک سروس کمیشن ،ٹھنڈی سڑک ،حیدر آباد، سندھ، شعبہ امتحان کا موقف درست ہے؟
سوال نمبر 25 ۔سورۃ الفرقان میں کس مشہور غزوہ کا ذکر ہ؟
1۔غزوہ خیبر 2۔غزوہ بدر 3۔غزوہ احد 4۔غزوہ خندق
سندھ پبلک سروس کمیشن ،ٹھنڈی سڑک ،حیدر آباد ،سندھ ،شعبہ امتحان کا موقف : غزوہ بدر جواب درست ہے۔
میرا موقف: یہ سوال بالکل غلط ہے (دلیل) سورت الفرقان مکی سورت ہے اس سورت میں مندرجہ ذیل میں سے کسی بھی غزوہ کا ذکر نہیں ہے۔
سوال نمبر 27 پہلے کاتب وحی کون تھے ؟
1۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ 2۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ 3۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ 4۔ ان میں سے کوئی بھی نہیں۔
سندھ پبلک سروس کمیشن ٹھنڈی سڑک حیدر آباد سندھ شعبہ امتحان کا موقف : یہ سوال غلط ہے اس میں کوئی بھی آپشن درست نہیں ہے۔
زینب بنت محمد اسلم بھٹی کا مؤقف : اس سوال کا چوتھا آپشن (4) درست ہے اور یہ سوال بھی بالکل درست ہے۔
۔واضح ہو کہ قران مجید میں اٹھارویں پارے میں موجودستتر آیات مبارکہ پر مشتمل جو سورت "سورۃ الفرقان" کے نام سے مشہور ہے ،اس میں کسی "غزوے" کا تذکرہ موجود نہیں، چنانچہ "سورۃ الفرقان" کے متعلق یہ سوال قائم کرنا کہ "اس میں کسی مشہور غزوہ کا ذکر ہے"اور پھر اس کا جواب"غزوہ بدر"قرار دیدینا درست نہیں ، لہذا سائلہ کا ذکر کردہ موقف درست اور حقیقت پر مبنی ہے۔
2۔ کاتبین وحی میں سے سب سے پہلے کاتب وحی کا نام اہل علم نے" عبداللہ بن سعد بن ابی سرح العامری" نقل کیا ہے لہذا سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق پہلے کاتب وحی کے متعلق سوال قائم کرنا درست ہے، چنانچہ اس حوالے سے بھی سائلہ کا موقف درست اور صحیح معلوم ہوتا ہے ۔
کما فی روح المعانی: سورة الفرقان،أطلق الجمهور القول بمكيتها، وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما وقتادة هي مكية إلا ثلاث آيات نزلت بالمدينة وهي وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلهاً آخَرَ إلى قوله سبحانه: وَكانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحِيماً [الفرقان: 68- 70]الخ(ج9 ص420)۔
وفی السیرۃ النبویۃ لابی الحسن الندوی: وفي رمضان سنة اثنتين من الهجرة، كانت غزوة بدر الكبرى «1» ، وهي المعركة الحاسمة التي تقرّر مصير الأمّة الإسلاميّة ومصير الدعوة الإسلاميّة، وعليها يتوقف مصير الإنسانيّة المعنويّ الخ(ص299)۔
وفی فتح الباری: وكان زيد بن ثابت ربما غاب فكتب الوحي غيره وقد كتب له قبل زيد بن ثابت أبي بن كعب وهو أول من كتب له بالمدينة وأول من كتب له بمكة من قريش عبد الله بن سعد بن أبي سرح ثم ارتد ثم عاد إلى الإسلام يوم الفتح الخ(ج9 ص22)۔
وفی بذل المجھود: قلت: المشاهير من كُتَّابه صلى الله عليه وسلم كانوا ستة وعشرين كاتبًا:1 - عبد الله بن سعد بن أبي سرح العامري، وهو أوّل من كتب له صلى الله عليه وسلم من قريش بمكة، ثم ارتد، ثم لما كان يوم الفتح أمر صلى الله عليه وسلم بقتله، وفرّ إلى عثمان فغيّبه، فجاء به ثم أسلم، وحسن إسلامه الخ(ج10 ص115)۔