۱۔ کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم معراج کی رات جس بُراق پر گئے تھے، اس کی شکل اور حقیقت کیا تھی؟ آج کل لوگ اس کی شکل یوں بناتے ہیں کہ کسی گھوڑے یا خچر کے لیے پَر لگاتے ہیں اور سر اس کا عورت جیسا بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ وہی براق ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم معراج کے لیے گئے تھے تو آیا ان کا یہ کہنا جائز اور درست ہے یا نہیں؟
احادیثِ مبارکہ سے صرف یہ ثابت ہے کہ جس جانور پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے معراج فرمائی تھی، وہ قد و قامت میں گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا جس کی رفتار منتہائے نظر تک ایک قدم کا رکھنا تھی اور بس ، لہٰذا مذکورہ حدیثِ مبارک کی روشنی میں عوام کا قول بلاشبہ غلط ہے، ایسی لغو باتوں سے احتراز لازم ہے۔
فی الصحیح لمسلم : عن أنس بن مالك أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال * أتيت بالبراق و هو دابة أبيض طويل فوق الحمار و دون البغل يضع حافره عند منتهى طرفه قال فركبته حتى أتيت بيت المقدس اھ(۱/۹۱)۔