واقعہ قرطاس کیا ہے؟ المیئہ جمعرات کیوں کہا جاتا ہے؟ ( رضیہ یوم الخمیس) بخاری میں ابن عباس سے سات مرتبہ روایت ہے۔
4. واقعہ قرطاس جس کو امام بخاریؒ نے حضرت ابنِ عباسؓ کی روایت سے ذکر کیا ہے یہ ہے کہ ابن عباسؓ نے فرمایا جمعرات کا دن !اور جمعرات کا دن کیا ہے؟ جس دن نبی اکرمؐ کو درد زیادہ ہوا تو فرمانے لگے لاؤ میرے پاس تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں، جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو تو ( حاضرین) جھگڑنے لگے کیا حال ہے آپ کا؟ کیا آپ جدا ہو رہے ہیں؟ آپؐ سے معلوم تو کرلو تو وہ آپ کے سامنے بار بار دہرانے اور پوچھنے لگے۔ تو نبیؐ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو میں جس حالت میں ہوں، وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بُلا رہے ہو اور ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے اس وقت فرمایا کہ شانے کی ہڈی اور تختی دوات لے آؤ ،تو اس پر بعض حضرات نےکہا کہ نبی کو درد کا غلبہ ہے، اور تمہارے پاس اللہ کا قرآن ہے جو ہمارے لیے کافی ہے ،پس اہلِ بیت نے اختلاف کیا اور جھگڑنے لگے ان میں سے بعض کا کہنا یہ تھا کہ جو حضرت عمرؓ کی رائے تھی یعنی شدتِ درد کی وجہ سے نبی کریمؐ کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے کاغذ قلم دے کر بلاوجہ تکلیف میں نہ ڈالا جائے، اس پر بحث مباحثہ زیادہ ہونے لگا تو نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ میرے ہاں سے چلے جاؤ ، چونکہ یہ واقعہ بروز جمعرات پیش آیا تھا، اس لیے اس کو ’’المیئہ جمعرات‘‘ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔
وفی صحيح البخاري: عن ابن عباس - رضي الله عنهما - : أنه قال: يوم الخميس وما يوم الخميس؟ ثم بكى حتى خضب دمعه الحصباء، فقال: اشتد برسول الله صلى الله عليه وسلم وجعه يوم الخميس، فقال: «ائتوني بكتاب أكتب لكم كتابا لن تضلوا بعده أبدا»، فتنازعوا، ولا ينبغي عند نبي تنازع، فقالوا: هجر رسول الله - صلى الله عليه وسلم- ، قال: «دعوني، فالذي أنا فيه خير مما تدعوني إليه»،(4/ 69)-
وفیه أیضا: سمع سعيد بن جبير، سمع ابن عباس - رضي الله عنهما - ، يقول: يوم الخميس وما يوم الخميس، ثم بكى حتى بل دمعه الحصى، قلت يا أبا عباس: ما يوم الخميس؟ قال: اشتد برسول الله - صلى الله عليه وسلم - وجعه، فقال: «ائتوني بكتف أكتب لكم كتابا لا تضلوا بعده أبدا»، فتنازعوا، ولا ينبغي عند نبي تنازع، فقالوا: ما له أهجر استفهموه؟ فقال: «ذروني، فالذي أنا فيه خير مما تدعونني إليه»(4/ 99)