کیا نبی اکرم ﷺ کے دور میں یا صحابہ کرامؓ کے دور میں کبھی عید یا رمضان کی رؤیت میں اختلاف ہوا ہے؟
جغرافیائی حدود و فاصلوں کی وجہ سے چاند کی رؤیت میں اختلاف کا واقع ہو نا ایک بدیہی امر ہے اور صحابہ کرامؓ کے دور میں بھی اس کی مثال ملتی ہے، چنانچہ احادیث کی کتابوں میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ ’’أم الفضل بنت الحارث‘‘ نے حضرت کریب کو کسی کام سے امیر معاویہؓ کے پاس شام بھیجا جب حضرت کریب واپس مدینہ پہنچے تو حضرت ابن عباسؓ نے اس سے رمضان کے چاند کے متعلق سوال کیا کہ تم نے کس دن چاند دیکھا تھا تو اس نے کہا کہ ہم نے جمعہ کی رات چاند دیکھا تھا اور پھر اگلے دن روزہ رکھا، حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ ہم نے تو ہفتے کی رات کو چاند دیکھا تھا اور ہم اسی رؤیت کے اعتبار سے روزے پورے کریں گے اس لئے رؤیت کے اختلاف کو بنیاد بناکر کسی قسم کی شرانگیزی سے احتراز لازم ہے۔
کما روی المسلم بسندہ عن کریب أن أم الفضل بنت الحارث بعثتہ الی معاویۃ بالشام قال فقدمت الشام فقضیت حاجتھا واستھل علی رمضان وانا بالشام فرأیت الھلال لیلۃ الجمعۃ ثم قدمت المدینۃ اٰخر الشھر، فسألنی عبد اللہ بن عباس ثم ذکر الھلال فقال متی رأیتم الھلال فقلت رأیناہ لیلۃ الجمعۃ (الی قولہ) فقال لکنّا رأیناہ لیلۃ السبت فلا نزال نصوم حتی نکمّل ثلثین أو نراہ۔ الخ (ج۱، ص٣٤٨) واللہ اعلم