تاریخی معلومات

مصحفِ عثمانی کی تاریخ اور اس کے مقاصد

فتوی نمبر :
60069
| تاریخ :
2009-07-01
تاریخ / تاریخ اسلام / تاریخی معلومات

مصحفِ عثمانی کی تاریخ اور اس کے مقاصد

محترم مفتی سیف اللہ جمیل صاحب جامعہ بنوریہ العالمیہ کراچی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
گذارش یہ ہے کہ کل مورخہ 6 جون 2008 روزنامہ امت میں ایک مضمون بعنوان " مصحفِ عثمانی کی پہلی اشاعت" شائع ہوا ، یہ نہایت معلوماتی تحقیق ہے ، اسی تحقیقی تجزیئے نے مجھ میں جستجو پیدا کی کہ میں اپنے علم میں اضافہ کی خاطر آپ کی خدمت میں یہ سوال رکھوں۔
آپ سے درخواست ہے کہ اپنے علم کی روشنی میں میری ہدایت کریں کہ مصحفِ عثمانی کی تاریخی حیثیت کیا ہے ؟ یہ کب اور کن مقاصد کیلۓ استعمال کی گئی ؟ اور اس کے لغوی معانی کیا ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مصحف کے معنی قرآن مجید اور عثمانی ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف نسبت ہے، اس سے مراد قرآن کریم کا وہ نسخہ ہے جو حضرت عثمان کے زمانے میں ان کے حکم اور صحابہ کے مشورہ سے ایک قراءت پر مرتب کیا گیا تھا اور اس انداز سے مرتب کرنے کا مقصد یہ تھا کہ قرآن کریم میں تحریف اور رد و بدل کے امکان کو رد کیا جاسکے ، رسم الخط اور مسلمہ قراءتوں کے اعتبار سے تمام مصاحف میں یکسانیت پیدا ہو جائے، نیز یہ کہ مسلمانوں کے باہمی انتشار و افتراق کی جو معروضی کیفیت درپیش تھی اور آئندہ اس کے بڑھنے کا قوی اندیشہ تھا ،اس کا سدِ باب کیا جاسکے ، مصحفِ عثمانی مرتب کر نے کے بارے میں مختصر سی تفصیل کتاب ’’علوم القرآن مصنفہ مفتی تقی عثمانی صاحب‘‘ میں یہ ہےکہ:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب خلیفہ بنے تو اسلام عرب سے نکل کر روم اور ایران کے دور دراز علاقوں تک جا پہنچا، ہر نئے علاقے کے لوگ جب مسلمان ہوتے تو وہ ان مجاہدینِ اسلام یا ان تاجروں سے قرآن کریم سیکھتے جن کی بدولت انہیں اسلام کی نعمت حاصل ہوئی تھی اور یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا تھا اور مختلف صحابہ کرام نے اسے آنحضرت ﷺ سے مختلف قراءتوں کے مطابق سیکھا تھا، اس لۓ ہر صحابی نے اپنے شاگردوں کو اسی قراءت کے مطابق قرآن پڑھایا جس کے مطابق خود اس نے حضورؐ سے پڑھا تھا، اس طرح قراءتوں کا یہ اختلاف دور دراز ممالک تک پہنچ گیا، جب تک لوگ اس حقیقت سے واقف تھے کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے، اس وقت تک اس اختلاف سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی،لیکن جب یہ اختلاف دور دراز ممالک تک پہنچا اور یہ بات ان میں پوری طرح مشہور نہ ہوسکی کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے تو اس وقت لوگوں میں جھگڑے پیش آنے لگے، بعض لوگ قرآن کریم کی متواتر قراءتوں کو غلط قرار دینے کی سنگین غلطی میں مبتلا ہوگئے ، دوسری طرف سوائے حضرت زید رضی اللہ عنہ کے لکھے ہوئے ایک نسخہ کے جو مدینہ طیبہ میں موجود تھا، پورے عالمِ اسلام میں ایسا کوئی معیاری نسخہ موجود نہ تھا جو پوری امت کے لۓ حجت بن سکے، کیونکہ دوسرے نسخے انفرادی طور پر لکھے ہوئے تھے اور ان میں ساتوں حروف کو جمع کرنے کا کوئی اہتمام نہ تھا، اس لۓ ان جھگڑوں کی تصفیہ کی قابلِ اعتماد صورت یہی تھی کہ ایسے نسخے پورے عالمِ اسلام میں پھیلا دیئے جائیں جن میں ساتوں حروف جمع ہوں اور انہیں دیکھ کر یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ کونسی قراءت صحیح ہے اور کونسی غلط ہے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ خلافت میں یہی عظیم الشان کارنامہ انجام دیا ، اس کا رنامہ کی تفصیل روایاتِ حدیث کے ذریعہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان  آرمینیہ اور آذر بائیجان کے محاذ پر جہاد میں مشغول تھے، وہاں انہوں نے دیکھا کہ لوگوں میں قرآن کریم کی قراءتوں کے بارے میں اختلاف ہو رہا ہے، چنانچہ مدینہ طیبہ واپس آتے ہی وہ سیدھے حضرت عثمان کے پاس پہنچے اور جاکر عرض کیا کہ امیر المؤمنین! قبل اس کے کہ یہ امت اللہ کی کتاب کے بارے میں یہود و نصاری کی طرح اختلافات کا شکار ہو، آپ اس کا علاج کیجیۓ ،حضرت عثمانؓ نے پوچھا بات کیا ہے ؟ حضرت حذیفہ نے جواب میں کہا کہ میں آرمینیہ کے محاذ پر جہاد میں شامل تھا ،وہاں میں نے دیکھا کہ شام کے لوگ ابی ابن کعب کی قراءت پڑھتے ہیں جو اہلِ عراق نے نہیں سنی ہوتی اور اہلِ عراق عبداللہ بن مسعود کی قراءت پڑھتے ہیں جو اہلِ شام نے نہیں سنی ہوتی، اس کے نتیجہ میں ایک دوسرے کو کافر کہہ رہے ہیں ،حضرت عثمان خود بھی اس خطرے کا احساس پہلے ہی کرچکے تھے، انہیں یہ اطلاع ملی تھی کہ خود مدینہ طیبہ میں ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ قرآن کے مطابق اس طرح مختلف اساتذہ کے شاگرد جب باہم ملتے تو ان میں اختلاف ہوتا اور بعض مرتبہ یہ اختلاف اساتذہ تک پہنچ جاتا اور وہ بھی ایک دوسرے کی قراءت کو غلط قرار دیتے، جب حضرت حذیفہ بن یمان نے بھی اس خطرے کی طرف توجہ دلائی تو حضرت عثمان نے جلیل القدر صحابہ کو جمع کرکے ان سے مشورہ کیا اور فرمایا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ بعض لوگ ایک دوسرے سے اس قسم کی باتیں کہتے ہیں کہ میری قراءت تمہاری قراءت سے بہتر ہے اور یہ بات کفر کی حد تک پہنچ سکتی ہے، لہٰذا آپ لوگوں کی اس بارے میں کیا راۓ ہیں؟ صحابہ نے خود حضرت عثمان سے پوچھا کہ آپ نے کیا سوچا ہے؟ حضرت عثمان نے فرمایا میری رائے یہ ہے کہ ہم تمام لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کردیں ،تا کہ کوئی اختلاف و افتراق پیش نہ آئے ،صحابہ نے اس رائے کو پسند کرکے حضرت عثمان کی تائید فرمائی۔
چنانچہ حضرت عثمان نے حضرت حفصہ کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ کے پاس حضرت ابو بکر کے زمانے کے جو صحیفے موجود ہیں، وہ ہمارے پاس بھیج دیجیۓ، ہم ان کو مصاحف میں نقل کرکے آپکو واپس کردینگے، حضرت حفصہ نے وہ صحیفے حضرت عثمان کے پاس بھیج دیۓ، حضرت عثمان نے چار صحابہ کی ایک جماعت بنائی جو حضرت زید بن ثابت، حضرت عبد اللہ بن زبیر، حضرت سعید بن العاص، حضرت عبد الرحمٰن بن حارث بن ہشام پر مشتمل تھی، اس جماعت کو اس کا م پر مامور کیا گیا کہ وہ حضرت ابوبکر کے صحیفوں سے نقل کرکے کئی ایسے مصاحف تیار کریں جن میں سورتیں بھی مرتب ہوں، ان چاروں میں سے حضرت زید ، انصاری تھے اور باقی تینوں قریشی تھے، اس لۓ حضرت عثمان نے ان سے فرمایا کہ جب تمہارا اور زید کا قرآن کے کسی حصہ میں اختلاف ہو جائے، یعنی اس میں اختلاف ہو کہ کونسا لفظ کس طرح لکھا جائے تو اسے قریش کی زبان کے مطابق لکھنا ، اس لۓ کہ قرآن کریم انہی کی زبان میں نازل ہوا ہے، ان حضرات نے اس نئے مصحف کی ایک سے زائد نقلیں تیار کیں، قرآن کریم کے یہ متعدد معیار ی نسخے تیار فرمانے کے بعد مختلف علاقوں کی طرف روانہ فرمائے ، تا کہ رسم الخط مسلمہ قراءتوں کے اجتماع اور سورتوں کی ترتیب کے اعتبار سے تمام مصاحف یکساں ہو جائیں اور ان میں کوئی اختلاف باقی نہ رہے، بالآخر اسطرح مصحفِ عثمانی تیار ہوا اور اس کارنامہ کو پوری امت نے بہ نظرِ استحسان دیکھا اور تمام صحابہ نے اس کام میں ان کی تائید اور حمایت فرمائی۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الصحیح للبخاری : حذیفة بن الیمان قدم علی عثمان و کان یغازی اھل الشام فی فتح آرمینية و آذربیجان مع اھل العراق فافزع حذیفة اختلافھم فی القراءة فقال حذیفة لعثمان یا امیر المؤمنین ادرک ھذہ الامة قبل ان یختلفوا فی الکتاب اختلاف الیھود و النصاری فارسل عثمان الی حفصة ان ارسلی الینا بالصحف ننسخھا فی المصاحف ثم نردھا الیک فنسخوھا فی المصاحف و قال عثمان للرھط القریشیین الثلاثة : إذا اختلفتم انتم و زید بن ثابت فی شیئ من القرآن فاکتبوہ بلسان قریش فانما نزل بلسانھم ففعلوا حتی اذا نسخوا الصحف فی المصاحف رد عثمان الصحف الی حفصة فارسل الی کل افق بمصحف مما نسخوا و امر بما سواہ من القرآن فی کل صحیفۃ او مصحف ان یحرق اھ(2/746)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60069کی تصدیق کریں
1     2702
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تاریخ اسلام کی چند مستند کتابوں کے نام

    یونیکوڈ   اسکین   تاریخی معلومات 0
  • آپ ﷺ کی ہجرت کے وقت حضرت اسماء کی عمر کی تحقیق

    یونیکوڈ   اسکین   تاریخی معلومات 0
  • چودہویں اور پندرہویں صدی کے مجدد کی تحقیق

    یونیکوڈ   اسکین   تاریخی معلومات 0
  • کیا دور نبوت میں بھی رؤیت ہلال میں اختلاف ہوا تھا؟

    یونیکوڈ   اسکین   تاریخی معلومات 0
  • جنت البقیع کے فضائل

    یونیکوڈ   اسکین   تاریخی معلومات 0
  • انسان کے ابتدائی طورپر بندرہونے کا سائنسی نظریہ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   تاریخی معلومات 0
  • مولانا اشرف علی تھانویؒ کی طرف ایک غلط قول کی نسبت

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
  • ایوان ِکسری کے چودہ کنکرے گرنے اور فارس کے آتش کدہ کے بجھنے کی تحقیق

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
  • دجال کے متبعین سے متعلق سبز رنگ کے کپڑوں والی علامت درست ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
  • ہیکل سلیمانی کی حقیقت و اہمیت

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
  • کیا امام شافعیؒ امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد تھے؟

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
  • زمانہ فترت میں اسلامی زندگی کا تصور اور اس کی صورت

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 1
  • واقعہ قرطاس کی تفصیل اور حقیقت

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 1
  • کیا یاجوج ماجوج سے روسی اور چینی قوم مراد ہے؟

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
  • تاریخ اسلام کے لیے کوئی مستند کتاب

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
  • ہجری دن کا اطلاق کتنے وقت پر ہوتا ہے؟

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
  • مصحفِ عثمانی کی تاریخ اور اس کے مقاصد

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 1
  • کیا ’’الہدی انٹرنیشنل‘‘غلط معلومات فراہم کرتے ہیں؟

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
  • ابولہب کے ساتھ مرنے کے بعد کیا ہوا

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
  • ہاروت و ماورت نامی فرشتوں کو روۓ زمین پر بھیجنے کا مقصد

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
  • دنیا میں آبِ زمزم کا وجود و ظہور

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
  • معاملۂ فدک کی حقیقت

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
  • یہود ونصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکالنے کے حکم کی وجہ

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
  • بُراق کی شکل اور حقیقت

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
  • تاریخی سوالات کے متلعق تحقیق

    یونیکوڈ   تاریخی معلومات 0
Related Topics متعلقه موضوعات