کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ہاروت و ماروت فرشتوں کے بارے میں؟ تفصیل سے بیان کریں آزمائش کے اسباب پر بھی روشنی ڈالیں؟ شکریہ!
واضح ہو کہ ہاروت اور ماروت ان دو فرشتوں کے نام ہیں جنہیں اﷲ تعالیٰ نے بابل شہر میں اس وقت مبعوث فرمایا تھا جبکہ عام لوگوں میں عموماً اور وہاں کے باشندوں میں خصوصاً معجزۂ رسول اور جادو میں اختلاط اور اشتباہ پیدا ہوگیا تھا، اور نہ صرف مشتبہ بلکہ دشوار ہوچکا تھا۔
چنانچہ اﷲ رب العزت نے عام لوگوں کو ایک تو اس آزمائش سے نکالنے اور جادو کی حقیقت و اقسام سے مطلع کرنے کیلئے ہاروت و ماروت نامی فرشتوں کو مبعوث فرمایا جنہوں نے لوگوں کے سامنے جادو کے اصول و فروع بیان کرنے کے ساتھ اس عمل بد سے بچنے کی تاکید بھی کی جب بعض لوگوں کے سامنے اس کی حقیقت واضح ہوگئی تو اس کے بعد وقتاً فوقتاً مختلف لوگوں کی آمد و رفت شروع ہوگئی جادو کے اصول و فروع سیکھنے اور اس کی حقیقت واقسام سے مطلع ہونے کی درخواستیں کرنے لگے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ناواقفی سے کسی اعتقادی یا عملی فساد میں مبتلا ہوجائیں، اور دوسرا اس کے سیکھنے میں بھی ان کی آزمائش تھی کہ ان چیزوں پر مطلع ہونے کے بعد کون شخص اپنے دین کی حفاظت واصلاح کی فکر کرتا ہے اور کون اپنے دین کی خرابی اور بربادی کی راہ اختیار کرتا ہے۔
آپ کے سوال کا مختصر جواب لکھ دیا گیا اگر مزید تفصیل مطلوب ہو تو اس آیۃ کریمہ {وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیَاطِیْنُ عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنِ} (الآیۃ)کے تحت تفسیر معارف القرآن، تفسیر مظہری، اور تفسیر روح المعانی وغیرہ کا مطالعہ فرمائیں۔ واﷲ اعلم