حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد کو کھڑا کرےگاجو امت کیلیے دین کو تازہ کریگا،تیرہویں صدی ہجری تک تو میرے خیال کے مطابق اتفاق ہے کہ مجددکون کون تھے ، مجھے ذرا یہ بتائیں کہ آپ کے نزدیک چودھویں صدی اور پندرھویں کا مجدد کون ہے؟براہ کرم دلیل بھی دیجیےگا،میں مختلف مکاتب فکر علماء سے رائے لےرہاہوں۔
مجددوہ شخص ہوتاہے جس کی تقریر اور سعی و کوشش سے بدعات ختم ہو ں اور سنت کا شیوع اور مردہ سنتوں کا احیاءہواور یہ علی التعیین متحقق نہیں کہ فلاں صدی کے مجدد فلاں ہیں، بلکہ علماء نے جس کو عالم محقق سمجھا، اسی کو مجدد ٹھہرالیااور اکثر علماءنے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ مجدد کاایک صدی میں ایک ہونا ضروری نہیں، بلکہ ایک وقت میں جماعت بھی مجدد ہو سکتی ہے جس کا ہر فرد دین کے کسی خاص شعبہ کی تجدید کرتاہے، اس لیے علی التعیین کسی ایک کو کسی ایک صدی کا مجدد نہیں کہا جا سکتاہے، البتہ حضرات علماء کرام نے ہر صدی کے مجدد دین کے نام لکھے ہیں جن میں چودھویں صدی کے مجدد حضرت مولانارشید احمدگنگو ہی رحمۃاللہ علیہ کو لکھا ہے ۔
فی بذل المجھود: من یجدد لھا أی لھذہ الأمة دینھا أی بین السنة من البدعة و یکثر العلم و یعز اھله و یقمح البدعة و یکثر اھلھا اھ(ج6ص103)
وفیه ایضاً: قال صاحب جوامع الاصول: وقد تکلم العلماء فی تاویله وکل واحد اشار الی العالم الذی ھو فی مذھبه و حمل الحدیث علیه الاولیٰ حمله علی العموم فان لفظ "من" تقع علی الواحد و الجمع اھ (ج6ص103)۔
وفیه ایضاً: والاظھر عندی واللہ أعلم أن المراد بمن یجدر و یس شخصاً واحدًا بل المراد به جماعة یجدد فی بلد فی فن أو فنون من العلوم سبباً لبقائه وعدم اند رأسه و انقضائه إلی أن یاتی أمر اللہ ولاشك أن ھذا التجدید أمر اضافی لان العلم کل سنة فی التنزل کما أن الجمل کل عام فی الترقی اھ (۱/۱۰۴) واللہ أعلم!