السلام علیکم !
مفتی صاحب! سلام کے بعد عرض ہے کہ ایک آدمی زيد نامی ایک دوسرے آدمی بکر نامی سے گاڑی ایک لاکھ میں خریدتا ہے، اور ایک ماہ کے بعد اس کی رقم ادا کرنے کو کہتا ہے ، پھر بکر نامی شخص اسی گاڑی کو زید پر ساٹھ ہزار میں فروخت کر دیتا ہے ،تو کیا ان کا یہ سودا شریعت کے مطابق ٹھیک ہے ؟ اللہ تعالی آپ کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔
مکمل قیمت کی ادائیگی سے پہلے گاڑی بیچنے والے پر کم قیمت میں گاڑی بیچنا جائز نہیں، البتہ مشتری (زید) بکر کو پوری قیمت ادا کرنے کے بعد کم و بیش جتنی بھی قیمت میں فروخت کر دیتا ہے تو یہ شرعاً جائز اور درست ہوگا۔
ففي حاشية ابن عابدين: قوله ( وفسد شراء ما باع الخ ) أي لو باع شيئا وقبضه المشتري ولم يقبض البائع الثمن فاشتراه بأقل من الثمن الأول لا يجوز زيلعي أي سواء كان الثمن الأول حالا أو مؤجلا اھ (5/ 73)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1