کیا کسی چیز کو بیچنا جائز ہے؟ جبکہ اس کی حقیقی ملکیت نہ ہو جیسا کہ شیئرز یا پلاٹوں کے کاغذات وغیرہ۔
زمین اور غیر منقولی اشیاء کی آگے فروختگی قبل القبض بھی جائز ہے ،جبکہ شیئرز میں آگے فروختگی کے لئے قبضہ ضروری ہے، جبکہ شیئرز کا رسک منتقل ہونا بھی حکماً قبضہ شمار ہوتا ہے ،اس لئے رسک منتقل ہونے کے بعد اگر آگے فروخت کیے تو یہ شرعاً بھی جائز ہوگا۔
ففي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (وأما) بيع المشتري العقار قبل القبض فجائز عنه عند أبي حنيفة، وأبي يوسف استحسانا اھ (5/ 181)۔
و في البحر الرائق: لما في الخانية لأن قبض كل شيء وتسليمه يكون بحسب ما يليق به اھ (5/ 268)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1