مولانا صاحب برائے مہربانی میری راہ نمائی فرمائیں کیا یہ سود ہوگا یا نہیں کہ ایک چیز کو زیادہ پیسوں میں قسطوں پر خریدا جائے بمقابلہ اس چیز کو نقداً اصلی قیمت پر لینے کے۔
نقد کے مقابلہ میں ادھار یا قسطوں پر کوئی چیز مہنگی بیچنا یا خرید نا ہر دو امور شرعاً جائز اور درست ہے، اور یہ معاملہ شرعا سود کے زمرے میں بھی نہیں آتا۔
کمافي بحوث في قضايا فقهية معاصرة: أما الأئمة أربعة وجمهور الفقهاء والمحديثين فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد بشرط أن بيت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم وبثمن متفق عليه عند العقد اھ (۱/ ۷) -
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1