اسٹاک ایکسچینج میں رقم لگانا حلال ہے یا حرام یا مکروہ ہے؟ مجھے اس کی مکمل وضاحت کر دیں۔ اسٹاک ایکسچینج میں دو طرح سے رقم لگائی جاتی ہے ۔ (1) لمبی مدت پر انویسٹمنٹ کرنا کہ جیسے میں نے 2007 ء میں شیئرز خریدے اور پھر میں اس کمپنی میں اپنے شیئرز کے بقدر پارٹنر بن گیا اور کمپنی جو کچھ کمائے گی اس میں سے کچھ کٹوتی کر کے مجھے رقم دے گی ۔ (2) شارٹ مدت انویسٹمنٹ کرنا کہ اس میں رقم لگانے والا شیئرز خرید کر اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے، جب کچھ مہینوں یا ہفتوں بعد رقم بڑھ جاتی ہے اسے بیج دیتا ہے، (جسے کیپیٹل گین کہتے ہیں)۔
از راہ کرم اس معاملہ قرآن و حدیث کی روشنی میں میری فرمائیں۔
واضح ہو کہ اسٹاک مارکیٹ سے شیئرز کی خرید و فروخت درج ذیل چار شرطوں کے ساتھ جائز ہے۔
(۱) جس کمپنی کے شیئرز خریدے جار ہے ہیں ، وہ کمپنی کسی حرام کا روبار میں ملوث نہ ہو۔
(2) اس کمپنی کے تمام اثاثے اور املاک سیال اثاثوں (LIQUID ASSESS) یعنی نقد رقم کی شکل میں نہ ہوں، بلکہ کمپنی نے کچھ فکسڈ اثاثے (FIXED ASSESTS) حاصل کر لئے ہوں مثلاً : بلڈ نگ بنالی ہو یا زمین خرید لی ہو وغیرہ ۔
(۳) اگر کمپنی کا بنیادی کا روبار حلال ہو ، لیکن کمپنی سودی لین دین کرتی ہو تو اس صورت میں اس کی سالانہ میٹنگ میں سودی لین دین کے خلاف آواز اٹھائی بھائے۔
(۴) چوتھی شرط جو حقیقت میں تیسری شرط کا ایک حصہ ہے ، وہ یہ ہے کہ جب منافع تقسیم (DIVIDEND) ہو تو وہ شخص انکم اسٹیٹ منٹ کے ذریعے معلوم کرلے کہ آمدنی کا کتنا فیصد حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہے ؟ پھر جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہے ، اس کو صدقہ کر دے۔
لہذا مذکورہ بالا تمام شرائط کی مکمل پابندی کے ساتھ اگر شیئرز کا کاروبار کیا جائے، تو اس سے حاصل شدہ نفع بھی حلال ہوگا۔
ففي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم اھ (2/ 855)
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (عن جابر قال: «لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - آكل الربا» ) ، أي: آخذه وإن لم يأكل، وإنما خص بالأكل لأنه أعظم أنواع الانتفاع كما قال - تعالى: {إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما} [النساء: 10] (ومؤكله) : بهمزة ويبدل أي: معطيه لمن يأخذه، وإن لم يأكل منه نظرا إلى أن الأكل هو الأغلب أو الأعظم اھ (5/ 1916)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله وكل أنواع الكسب إلخ) أي أنواعه المباحة، بخلاف الكسب بالربا والعقود الفاسدة ونحو ذلك اھ (6/ 462) واللہ اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1