میں نے ایک شخص کو مالِ تجارت RS:100 کا بیچا ،جس کی عوض اس نے رابطے کے وقت RS:10 زرِ ضمانت کے طور پر ادا کر دیا ،اور یہ فیصلہ کیا کہ باقی Rs 90 وہ 30 دن میں ادا کرنے کے بعد اپنا سامان وصول کرلےگا،تین دن گزر جانے کے بعد اس شخص نے باقی RS 90 ادا نہیں کئے اور مالِ تجارت ہمارے پاس ہی رہا ،ہم نے بارہا اس سے درخواست کی کہ وہ باقی رقم ادا کر کے اپنا سامان وصول کر لیں ، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا،اب ہم نے ایک سال انتظار کرنے کے بعد اس سامان کو کسی اور شخص کو 70 .RS کا فروخت کر دیا ۔براہِ مہربانی قرآن اور حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ زرِ ضمانت 10.Rs کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
کیا ہم اپنے 30 RS کے نقصان کو اس رقم سے پورا کر سکتے ہیں ؟ کیا خرید نے والے کی وعدہ خلافی کی وجہ سے ہمیں جو نقصان ہوا ہے، کیا خریدنے والا وہ نقصان پورا کرنے کا پابند ہے یا نہیں ؟
با ضابطہ ایجاب اور قبول کے پائے جانے کے بعد اس کا مال رکھنے کی صورت میں اگر قبضہ بھی متحقق ہو گیا تھا، تو یہ بیع تام ہو گئی تھی ،اب باہمی رضا مندی کے بغیر کسی کو بیع ختم کرنے کا شرعاً اختیار نہیں ،البتہ اب ایک سال گزرنے کے باوجود جب خریدار سے درخواست کرنے کے باوجود وہ مبیع لینے اور باقی رقم ادا کرنے کے لیے نہیں آیا ۔ تو بائع کو یہ اختیار حاصل ہے کہ مبیع کو بیچ کر اپنا حق اس کے ذریعے وصول کرے اور نقصان کی صورت میں زرِ تلافی بھی وصول کر سکتا ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: ولو كان بعض الثمن حالا وبعضه مؤجلا فله حبسه حتى يستوفي الحال ولو بقي من الثمن شيء قليل كان له حبس جميع المبيع كذا في الذخيرة اھ (3/ 15)۔
و في شرح الجلة: لو اشترى شيئا وغاب قبل القبض ونقد الثمن فأقام بائعه البينة أنه باعه منه ولم یقبض ثمنه فان کانت غيبة المشتری معروفة فلیس للقاضی بیع المبیع لوفاء الثمن لأنه یمکن للبائع الذھاب إلی المشتری وإن کانت الغیبة مجھولة کان للقاضی بیع المبیع إن کان منقولا وتأدیۃ الثمن إلی البائع وما فضل من الثمن الثانی یمسکه للغائب وإن نقص تبعه البائع إذا ظفر به و یستو في ما یبقی له اھ (۲/ ۲۱۶)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1