کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس اس میسج کے بارے میں جو آج کل موبائلوں پر چل رہا ہےکہ:
مسلمانوں کی تابناک تاریخ ۔ ۱۰ ہجری : ایک لاکھ پچاس ہزار مسلمان ، ۱۱ ہجری رسول اللہ ﷺ کے جنازے میں شریک ہوئے فقط ۷ مسلمان، ۱۱ ہجری جناب فاطمہؓ کے جنازے میں شریک ہوئے فقط ۹ مسلمان، ۴۸ سال بعد امام حسن ؓکے جنازے میں شریک ہوئے فقط ۱۳ مسلمان، ۶۱ ہجری امام حسینؓ کے جنازے میں ایک بھی مسلمان شریک نہ تھا ۔
اس بات کی نہ تو کوئی تاریخی حقیقت اور اصل ہے اور نہ ہی نفس الامر میں ایسا ہوا ہے، بلکہ یہ محض من گھڑت بے بنیاد بےاصل بات ہے، جو دشمنان اسلام نے پھیلائی ہے، ایسے باتوں میں پڑنے اوران پر اعتبار کرنے سے احتراز کیا جائے۔