(۱) :اسمگلنگ کے ذریعہ افغانستان سے ایسی اشیاء لا نا جس پر کسٹم نہ ہو، مثلاً (کپڑا، اسپیئر پارٹس) وغیرہ لانا کیسا ہے؟ مکمل وضاحت کریں ۔
(۲) :ایک آدمی کا روبار کرتا ہے جس میں وہ دو لاکھ روپے کماتا ہے، تو اب کسی کو اس رقم میں شریک کر کے اس منافع میں شریک کر سکتا ہے؟ مثلاً کسی سے دس لاکھ لیتا ہے کہ میں آپ کو اپنے منافع کا ثلث یا نصف دوں گا، اور ان دس لاکھ کو اس کا روبار میں استعمال نہیں کرتا ؟
(۱) :واضح ہو کہ شرعاً ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ضرورت کے مال کی جہاں چاہے خرید و فروخت کرے، لیکن مختلف ممالک اپنی معاشی ترقی کو ضرر سے بچانے کیلئے بیرون اشیاء کی برآمدات پر پابندی لگا دیتے ہیں، اس لئے اگر ایک اسلامی حکومت عام مسلمانوں کے مفاد کے پیشِ نظر کسی چیز پر پابندی لگا دے ،تو اس پر عمل کرنا لازم ہو جاتا ہے، اس کی خلاف ورزی کرنا درست نہیں، اس لئے مذکور طرز ِعمل سے احتراز لازم ہے۔ تاہم اسمگل ہو کر آنے والا مال اگر حلال ہو تو اس کی خرید و فروخت جائز اور اس سے حاصل شدہ آمدنی حلال ہے۔
(۲) :صورتِ مسئولہ میں مذکور طریقہ سے قرض لے کر تجارت کے منافع میں اسے شریک کرنا درست نہیں، بلکہ سود ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی صحيح مسلم: عن ابن عمر، «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن تتلقى السلع حتى تبلغ الأسواق»، وهذا لفظ ابن نمير، وقال الآخران: إن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن التلقي اھ (3/ 1156)۔
كما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال اھ (6/ 62)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1