میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ غیر قانونی شائع کردہ (Pirated) سافٹ ویئر کے بارے میں کہ آج کل کوئی بھی شخص آسانی سے ایک سی ڈی خرید سکتا ہے ،ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کی، جیسے : (Vista, xp وغیرہ) پاکستان میں سو روپے کے اندر ،جبکہ اس کی اصل قیمت کئی سو ڈالرز کی ہوتی ہے، اگر ہم اصل سی ڈی خریدیں گے اصل مقام (vendor) ہے۔ میرا سوال یہ ہے کیا ان (pirated ) سافٹ ویرز کو استعمال کرنا جائز ہے ؟
اگر متعلقہ کمپنی نے ان سافٹ وئیرز کی بلا اجازت کا پی کرنا ممنوع قرار دیا ہو (اور یہ Pirates سافٹ وئیرز بلا اجازت کے شائع کیے گئے ہوں) تو اس صورت میں اس طرح کے سافٹ وئیرز کو خریدنا اور استعمال کرنا درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی سنن أبي داود: أسمر بن مضرس، قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فبايعته، فقال: «من سبق إلى ماء لم يسبقه إليه مسلم فهو له قال فخرج الناس يتعادون يتخاطون » اھ (3/ 177)۔
وفی مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى (2/ 889) ۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1