میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ اس کے بعد اگر تم کسی کے گھر گئی یا ان لوگوں کے ساتھ بیٹھی تو مجھ پر طلاق ہوگی، "کسی اور کے گھر گئی" سے میری مراد انہی لوگوں کے گھر جانا تھا ،جن کے ساتھ میں نے اسے جانے سے منع کیا تھا،لیکن وہ اپنی امی کے ساتھ کسی اور کے گھر گئی، ان لوگوں کے گھر نہیں گئی جن سے میں نے اسے منع کیا تھا،تو کیا اس صورت میں طلاق ہوگئی؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگر حقیقت پر مبنی ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائل اپنی بیوی کو مخصوص لوگوں کے گھر جانے سے منع کر رہا تھا اور اسی دوران بیوی کو مذکور جملہ "اس کے بعد اگر تم کسی کے گھر گئی یا ان لوگوں کے ساتھ بیٹھی تو مجھ پر طلاق ہوگی " کہا ہو تو اس میں سائل کی نیت شرعاً معتبر مانی جائے گی ،لہٰذا اگر سائل کی بیوی اپنی والدہ کے ساتھ ان لوگوں کے گھر نہ گئی ہو جن کے گھر جانے سے سائل نےمنع کرنے کی نیت کی ہو ، اور نہ ہی ان لوگوں کے ساتھ بیٹھی ہو، تو اس صورت میں شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ تعلیق طلاق چونکہ بدستور برقرار ہے ،اس لیے اگر سائل کی بیوی آئندہ کسی موقع پر مذکور گھروں میں سے کسی گھر چلی گئی یا ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گئی تو شرط پائے جانے کی وجہ سے معلق طلاق واقع ہوجائے گی ،لہٰذا سائل کی بیوی کو وقوع طلاق سے بچنے کے لیے اس مخصوص گھر جانے یا مخصوص لوگوں سے ملنے سے احتراز چاہیے، تاہم اگر سائل نے مذکور جملہ ایک مرتبہ کہا ہو، اس سے قبل کوئی طلاق نہ دی ہو اور مذکور گھر سائل کی بیوی کے قریبی رشتہ داروں کا ہو اور وہاں نہ جانے کی وجہ سے تعلقات خراب ہونے اور قطعِ تعلقی کا خدشہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل کی بیوی وہاں جاسکتی ہے، چونکہ اس صورت میں ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگی، لہٰذا سائل کو دورانِ عدت رجوع کا حق حاصل ہوگا، چنانچہ زبانی طور پر رجوع کے الفاظ "میں رجوع کرتا ہوں" وغیرہ کہہ کر سائل کا نکاح بدستور برقرار رہے گا اور آئندہ سائل کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، لہٰذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
کما فی البحر الرائق: (قوله ففيها إن وجد الشرط انتهت اليمين) أي في ألفاظ الشرط إن وجد المعلق عليه انحلت اليمين، وحنث وانتهت لأنها غير مقتضية للعموم اھ (باب التعلیق فی الطلاق، ج:4، ص:15، ط:رشیدیۃ)۔
وفی الھندیۃ: قال لها: إن لم أعامل معك على الخدمة كما كنت أعامل فأنت طالق إن كانت له خدمة يقيد بها وإلا يرجع إلى نيته كذا في البزازية (الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق الخ، ج:1، ص:433، ط:رشیدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة اھ (کتاب الطلاق، الباب السادس فی الرجعۃ الخ، ج:1، ص:468، ط:رشیدیۃ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0