کیا فر ماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنے بیٹے کے لیے کافی وقت سے رشتہ ڈھونڈ رہی تھی، مگر پولیس میں نوکری ہونے کی وجہ سے کہی بات نہیں بن پا رہی تھی ، جس کی وجہ سے میرے بیٹے نے غصہ میں یہ کہا کہ " جس لڑکی سے میری شادی ہو، اسے تین طلاق" اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ایسی صورت میں میرے بیٹے کے نکاح کی کیا صورت ہوگی ؟ براہ کرم حکم شرعی سے آگاہ فرمائیں اوار اگر کوئی ممکنہ صورت ہو تو وہ بھی بتلائیں ۔
واضح ہو کہ نکاح کی طرف نسبت کرتے ہوئے اگر طلاق کو مشروط کیا جائے تو نکاح ہوتے ہی وہ طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں جب سائلہ کے بیٹے نے مذکور جملہ " جس لڑکی سے میری شادی ہو، اسے تین طلاق " کہا تو اس سےتینوں طلاقیں معلق ہوچکی ہیں ،چنانچہ سائلہ کابیٹا اب جس عورت سےبھی نکاح کریگا تو نکاح ہوتے ہی اس پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی ،اور وہ لڑکی حرمت مغلظہ کے ساتھ سائلہ کے بیٹے پرحرام ہوجائے گی ،جس سے بغیرحلالہ شرعیہ دوبارہ نکاح نہیں ہوسکے گا،لیکن اس لڑکی کے ساتھ نکاح وطلاق کے ساتھ ہی چونکہ قسم پوری ہوجائے گی ، اس کے بعد سائلہ کا بیٹا اگر کسی اورلڑکی سے نکاح کریگا تواس پرکوئی طلاق واقع نہ ہوگی ۔البتہ طلاق سے بچنے کے لیے یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ سائلہ خودیاکوئی دوسراشخص اس کے بیٹے سے پوچھے بغیر اپنے طور پر اس کا نکاح کسی جگہ کرادے اور سائلہ کےبیٹے کے علم میں جب آئے تو زبانی اجازت کے بجائے عملا اس نکاح کو نافذ کردے (مثلا مہر کی ادائیگی کردے یا حقوق زوجیت ادا کرلے)، چنانچہ اس طرح کرنے سے سائلہ کی پریشانی حل ہوسکتی ہے۔
کما فی الہندیۃ: "ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت لأنها تقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده إلا في كلما لأنها توجب عموم الأفعال.(کتاب الطلاق، الفصل الأول في الفاظ الشرط، ج: ١، ص: ٤١٥، مط: ماجدية)
وفيها ايضاً: إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق.(کتاب الطلاق، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج: ١، ص: ٤٢٠، مط: ماجدية)
وفی الدر المختار: (كل امرأة تدخل في نكاحي) أو تصير حلالا لي (فكذا فأجاز نكاح فضولي بالفعل لا يحنث) بخلاف كل عبد يدخل في ملكي فهو حر فأجازه بالفعل حنث اتفاقا لكثرة أسباب الملك عمادية.
وفی رد المحتار تحت (قوله لا يحنث) هذا أحد قولين قاله الفقيه أبو جعفر ونجم الدين النسفي والثاني أنه يحنث وبه قال شمس الأئمة والإمام البزدوي والسيد أبو القاسم وعليه مشى الشارح قبيل فصل المشيئة، لكن رجح المصنف في فتاواه الأول ووجهه أن دخولها في نكاحه لا يكون إلا بالتزويج. فيكون ذكر الحكم ذكر سببه المختص به فيصير في التقدير كأنه قال إن تزوجتها وبتزويج الفضولي، لا يصير متزوجا، كما في فتاوى العلامة قاسم قلت: قد يقال إن له سببين: التزوج بنفسه والتزويج بلفظ الفضولي، والثاني غير الأول بدليل أنه لا يحنث به في حلفه لا يتزوج تأمل (قوله لكثرة أسباب الملك) فإنه يكون بالبيع والإرث والهبة والوصية وغيرها بخلاف النكاح كما علمت فلا فرق بين ذكره وعدمه.(کتاب الأيمان، باب اليمين في الضرب و القتل وغیر ذلک، ج:٣، ص: ٨٤٧، مط: سعيد)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0