جناب آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں نے ایک گھریلو لڑائی میں غصے میں والدہ کو یہ کہ دیا کہ "جس سے بھی آپ شادی کروائیں اس کو تین طلاق"
اب میں شرمندہ ہو رہا ہوں۔ مولوی صاحب! آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اب شادی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اور اگر والدہ کے علاوہ کوئی اور میری شادی کروا دے تو کیا شادی ہو جاۓ گی یا نہیں؟
سوال میں ذکر کردہ صورت میں سائل نے اپنی والدہ سےاگر واقعۃً یہ جملہ کہا ہو کہ "جس سے بھی آپ شادی کروائیں،اس کو تین طلاق" تو ایسی صورت میں سائل کی والدہ جس لڑکی سے بھی شادی کروائے گی،تو نکاح ہوتے ہی اس لڑکی پر تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی،اور نکاح ختم ہوجائےگا۔تاہم چونکہ طلاق کی شرط والدہ کے ساتھ خاص ہے،اس لئے اگر والدہ کے علاوہ کوئی اور(مثلاً:والد،بھائی یا سائل خود) سائل کا نکاح کرے،یا وکیل بن کر کروائے،تو شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اور نکاح مکمل طور پر صحیح رہے گا۔
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» :
«ولو قال إذا تزوجتك فأنت طالق،... ثم تزوجها وقع الطلاق،»(4/ 8)
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» :
«رجل قال: كل امرأة أتزوجها فهي طالق ونسي ما قال، ثم تزوج امرأة ودخل بها تطلق ويجب مهر ونصف مهر وتجب العدة ويثبت النسب من الزوج كذا في الخلاصة.»(1/ 526)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0