السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہم
محترم مفتیانِ کرام ،میرا ایک مسئلہ ہے، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
منگنی کے دوران ہمارا نکاح ہوچکا تھا۔ نکاح کے بعد ہم میاں بیوی آپس میں فون کال اور ملاقات کے ذریعے بات چیت کرتے تھےرمضان المبارک میں ایک دن میری اپنی اہلیہ سے فون پر گفتگو ہو رہی تھی۔ باتوں باتوں میں بحث و تکرار ہوگئی، جس پر میں نے غصے کی حالت میں یہ الفاظ کہے “شادی / رخصتی تک اگر میں نےآپ سے بات کى تو آپ کو طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے۔”اس کے بعد میں نے موبائل کال بند کردی اور پھر ہماری نہ کوئی بات چیت ہوئی اور نہ ہی ملاقات ہوئی چند دن بعد میری اہلیہ کی دوسری والدہ نے مجھے افطاری کے لیے گھر بلایا، لیکن میں نے انکار کردیا اور وجہ بھی بتادی کہ میں نے طلاق کو بات چیت کے ساتھ معلق کیا ہوا ہے، اس لیے نہیں آسکتا۔پھر یہ بات خاندان میں پھیل گئی اور سب لوگ پریشان ہوگئے۔بعد میں میرے بہنوئی مجھے اپنے ساتھ میری اہلیہ کے گھر لے گئے تاکہ اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جاسکے۔جب ہم وہاں گئے تو گھر والوں نے ایک مجلس میں میری اہلیہ کو بھی بلایا، جہاں میں بھی موجود تھا۔ میں نے خاندان والوں کے سامنے اپنی بات بیان کی اور میری اہلیہ نے بھی اپنی بات بیان کی لیکن ہم دونوں نے آپس میں کوئی گفتگو نہیں کی،نہ ایک دوسرے سے براہِ راست بات کی ۔اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا صرف ایک ہی مجلس میں موجود ہونے اور بیٹھنے سے، جبکہ آپس میں کوئی بات چیت نہ ہوئی ہو ، طلاق واقع ہوجاتی ہے یا نہیں؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
صورت مسئولہ میں اگر سائل نے فقط سوال میں مذکور جملہ" شادی/ رخصتی تک اگر میں نےآپ سے بات کى تو آپ کو طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے"استعمال کیا ہو تو اس سے ان دونوں کے بات چیت کرنے پر شرعاً تینوں طلاقیں معلق ہوچکی ہیں ، اب اگرسائل رخصتی سے پہلے اپنی منکوحہ سے براہ راست یا فون کال وغیرہ پر بات کرلیتاہے تو دونوں کے خلوت صحیحہ کے تحقق کے صورت میں تینوں طلاقیں ورنہ ایک طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہوجائیگا، تاہم اس تعلیق طلاق کے بعد سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق سائل اور اس کی بیوی کا ایک مجلس میں بیٹھ کر ہر ایک کا دوسرے کو مخاطب کئے بغیر مجلس کے دیگر لوگوں کو مخاطب کر کے اپنی اپنی بات کہہ دینا چونکہ عرفاً زوجین کے درمیان بات یا گفتگوںنہیں سمجھا جاتا ہے، اس لئے شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے سائل کی منکوحہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
کمافی الھندیۃ: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك فإن قال لأجنبية: إن دخلت الدار فأنت طالق ثم نكحها فدخلت الدار لم تطلق كذا في الكافي(الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما،ج:1،ص:420،مط :مکتبہ ماجدیہ)
وفی الھدایۃ: وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق" وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا الخ(باب الأيمان في الطلاق،ج:2،ص:385،مط:مکتبہ شرکت عملیہ)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0