کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذىل مسئلہ میں کہ میں نے فون پر اپنی بیوی سے باتوں کے دوران کسی بات کے متعلق ان سے کہا کہ اگر یہ بات تم نے گھر میں کی( گھر والوں کو بتائی) تو تم مجھ پر طلاق ہوگی، یہ جملہ میں نے ایک ہی مرتبہ کہا ہے اور ساتھ میں عدد کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا، ابھی تک اس نے وه بات گھر والوں کو نہیں بتائی، لیکن اگر بتا دیں تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جائے گی؟ یاد رہے کہ ہمارا صرف نکاح ہوا ہے رخصتی ابھی تک نہیں ہوئی ہے، جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائىں۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنی منكوحہ کو مذکور الفاظ " اگر یہ بات تم نے گھر میں کی( گھر والوں کو بتائی) تو تم مجھ پر طلاق ہوگی "کہہ دىئے تو اس سے اىك طلاق معلق ہو گئی ہے، لہٰذا سائل كى بىوى اگر رخصتی وخلوتِ صحیحہ(ایسی تنہائی جس میں ہمبستری سے کوئی رکاوٹ نہ ہو)سے قبل ہى وہ بات گھر والوں کو بتا دیتی ہے تو شرط پائے جانے کی وجہ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر میاں بیوی کانکاح ختم ہو جائے گا ،جس كے بعد اگر وه دونوں ساتھ رہنا چاہتے، تو نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعده گواہوں کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب و قبول کر تے ہوئے تجديد نکاح کرنا لازم ہوگا، ايسى صورت مىں سائل کو آئندہ کے لیے فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لىے طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط چاہیے۔
كما فی الھدایۃ: وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق" وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا. (كتاب الطلاق، باب الأيمان في الطلاق، ج:1 ص:244 ط: دار إحياء التراث العربي بيروت )
وفي الفتاوى الهندية: إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة. [كتاب الطلاق، الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول، ج:1 ص:373 ط: ماجدية)]
وفي الدر المختار: (ولو قال) لغير الموطوءة (أنت طالق واحدة وواحدة) بالعطف (أو قبل واحدة أو بعدها واحدة يقع واحدة) بائنة، ولا تلحقها الثانية لعدم العدة اهـ [كتاب الطلاق، باب طلاق غير المدخول بها، ج:3 ص:288 ط: سعيد]
وفي بدائع الصنائع: فإن كانا حرين فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية. [كتاب الطلاق، باب الرجعة، فصل في حكم الطلاق البائن، ج:3 ص:187 ط: سعيد]
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0