کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک دن میں اور میری بیوی بیٹھے ہوئے تھے، میں اس کو سمجھا رہا تھا کہ اگر تم نے یہ کام کیا تو میری طرف سے اس دن فارغ ہوجاؤگی، لیکن میں نے پیار سے صرف اس کام سے روکنے کےلیے یہ بات کہی تھی، میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی،اور وہ کام ابھی تک ہو انہیں ، لیکن اس کی اجازت دینا بھی ضروری ہے، کیونکہ وہ پڑھتی ہے، اور اس وجہ سے اس کا باہر آنا جانا بھی لازمی ہے، اس بارے میں مجھے فتوی چاہیے، میں بہت پریشان ہوں ، صرف اور صرف سمجھانا دھمکی دیناتھا، اور سوچ میں بھی طلاق نہیں تھی۔
واضح ہو کہ "فارغ" کا لفظ عندالقرینہ طلاقِ صریح بائن کے لیے استعمال ہوتا ہے ، اس لیے ان الفاظ کے بولنے سے بلانیت بھی طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے،لہذا صورت مسؤلہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "اگر تم نے یہ کام کیا تو میری طرف سےاس دن فارغ ہوجاؤگی "کہہ دئیے ، تو اس سے بیوی پر ایک طلاق بائن معلق ہوگئی ہے ،چنانچہ سائل کی بیوی جس وقت بھی وہ کام کرے گی تو اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہو جائے گا، جس کے بعدسائل کے لئے تجدید نکاح کے بغیر بیوی کے ساتھ رہنا شرعاً جائزنہ ہوگا،لہذاسائل کی بیوی کوطلاق سے بچنے کے لیے اس کام سے احتراز لازم ہے، لیکن اگرسائل کی بیوی کے لیے مذکورکام کرنےکے علاوہ کوئی چارہ کارنہ ہوتواس صورت میں سائل کی بیوی بامرمجبوری وہ کام انجام دیدے، اس کے بعدسائل اوراس کی بیوی باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو باقاعدہ شرعی گواہان کی موجود گی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب وقبول کرنے کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں ، البتہ آئندہ کے لئے سائل کے پاس فقط دو/2 طلاقوں کا اختیار ہو گا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ : الفصل الخامس في الكنايات لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة ثم الكنايات ثلاثة أقسام ما يصلح جوابا لا غير ،أمرك بيدك اختاري اعتدي و ما يصلح جوابا و ردا لا غير اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري و ما يصلح جوابا و شتما خلية برية بتة بتلة بائن حرام( ج: 1، ص: 384،385)۔
وفی الھندیۃ: وفی الھندیۃ:وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق الخ (420/1)۔
وفیھا ایضاً: (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام (الی قولہ) وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم الخ (175/1)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0