السلام علیکم ورحمۃ اللہ محمد خالد نے اپنی بیوی سے کہا اگر کبھی تو میکے گئی تو تمہیں تین طلاق اس کی کیا صورت ہوگی کیا طلاق پڑ گئی یا اب وہ میکے کبھی جائے گی ہی نہیں رہنمائی فرما ے
واضح ہوکہ طلاق کو جب کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط کے پائے جانے کی وجہ سے شرعاً وہ طلاق واقع ہوجاتی ہے لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً مسمی ٰ محمد خالد نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "اگر کبھی تو میکے گئی تو تمہیں تین طلاق " کہے ہوں تو اس سے تعلیق طلاق درست منعقد ہوچکی ہے چنانچہ مذکور شخص کی بیوی جب اپنے میکے جائے گی تو اس پر معلق تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوجائے گی جس کے بعد نہ رجوع ہوسکے گا اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر کے دوبارہ باہم عقد نکاح ہوسکے گا ، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح میں کرنے بھی آزاد ہوگی ۔
البتہ تینوں معلق طلاقوں سے بچنے کیلئے یہ تدبیر اختیار کی جا سکتی ہے کہ شخص مذکور اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دے کر اپنی زوجیت سے الگ کر دے اور دورانِ عدت بیوی اپنے میکے ہر گز نہ جائے اور پھر جب عدت ختم ہو جائے تو وہ اپنے میکے چلے جائے، اس وقت چونکہ وہ اسکے نکاح میں نہ ہوگی اس لئے اس پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، اور مذکور شرط بھی پوری ہو جائے گی، اسکے بعد باہمی رضامندی سے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرلے، تجدیدِ نکاح کے بعد دوبارہ وہ کام کرنے کی وجہ سے مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، تاہم آئندہ کیلئے مذکور شخص کو فقط دو (2) طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی الدر المختار : (و تنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت و عتق و إلا لا ، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها الخ
و فی رد المحتار تحت : (قوله و تنحل اليمين إلخ) لا تكرار بين هذه و بين قوله فيما سبق و فيھا تنحل اليمين إذا وجد الشرط مرة لأن المقصود هناك الانحلال بمرۃ في غير كلما و هنا مجرد الانحلال اهـ ح و لأنه هنا بين انحلالها بوجودها في غير الملك بخلاف ما سبق۔اھ (ج3 ص:355 مطلب في اختلاف الزوجين في وجود الشرط ط: ایچ ایم سعید)
وفی الشامیۃ : (قوله أي تبطل اليمين) أي تنتهي وتتم، وإذا تمت حنث فلا يتصور الحنث ثانيا إلا بيمين أخرى لأنها غير مقتضية للعموم والتكرار لغة نهر (قوله ببطلان التعليق) فيه أن اليمين هنا هي التعليق (قوله إلا في كلما) فإن اليمين لا تنتهي بوجود الشرط مرة، وأفاد حصره أن متى لا تفيد التكرار، وقيل تفيده (ج3 ص:352 مطلب في ألفاظ الشرط ط: ایچ ایم سعید)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0