السلام علیکم ، حضرت مفتی صاحب ! میرا سوال خاصا طویل ہے ، اس لیے میں آپ کا زیادہ وقت لینے پر معذرت چاہتا ہوں، دراصل اس طویل تفصیل سے میرا مقصد صورتحال کی درست منظر کشی کرنا ہے، عرض ہے کہ میں ایک متوسط سرکاری ملازم ہوں، جب میری شادی ہوئی تو میری آمدنی کم تھی ، جبکہ میری بیوی مالی طور پر نسبتاً خوشحال میکے سے تعلق رکھتی تھی، شادی کے بعد میرے اخراجات بہت بڑھ گئے، تنخواہ میں گزارہ کرنا کافی مشکل ہو گیا۔ میں اس صورتحال سے پریشان ہوا ، خطرہ ہوا کہ اگر اسی طرح اخراجات بڑھتے رہے تو کہیں میں رشوت کی طرف مائل نہ ہو جاؤں یااپنی مجبوری سمجھتے ہوئے اپنے عہدے کا غلط فائدہ اٹھانا نہ شروع کر دوں ( مثلاً اپنے دفتر آنے والے سائلین یا دوسرے دفاتر سے آنے والے نمائندگان اور قاصدین کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ان سے ایسے فوائد نہ لینا شروع کر دوں جن کا میں اصولی حق نہیں رکھتا) لہذا میں نے سوچا کہ اپنی بیوی سے اس بارے میں بات کروں گا اور تنبیہ کیلئے کہوں گا کہ" کہ اپنے اخراجات کم کرے، ورنہ اگر میں حرام کمائی کی طرف مائل ہونے لگا تو تجھ سے ایسی بے رخی اختیار کروں گا کہ تیرے کسی عمل کی کوئی پرواہ نہیں کروں گا اور تجھے کوئی روک ٹوک نہیں کروں گا، یعنی شوہر ہوتے ہوئے بھی اپنی رعیت کا کوئی حق استعمال نہیں کروں گا"، اور اسےیہاں تک اختیار دوں گا کہ اگر اس کا میری تنخواہ میں گزارہ مشکل یا ناممکن ہو تو وہ کچھ دن اپنے میکے جا کر رہے اور وہاں اپنے والدین سے مشورہ کرے اور چاہے تو رشتہ ازدواج ختم کرنے کا فیصلہ کرلے، مگر میری ایسا کہنے کی ہمت نہ ہوئی،(مجھے خطرہ ہوا کہ میں بات شروع ہی کروں گا تو وہ میری بات کاٹ کر یہ سمجھ کر مجھ سے لڑنا شروع کر دیگی کہ میں اسےفضول خرچ ہونے کا طعنہ دے رہا ہوں) ۔ ایک دن اس نے مجھ سے تلخ لہجے میں کہا "میں تو آپ کا زیادہ خرچہ کرواتی ہی نہیں ، "اگر آپ مجھے ایسا سمجھتے ہیں تواب میں ایسا کر کے دکھاتی ہوں (یعنی اب اخراجات کا مزید بوجھ ڈالوں گی) "، یہ جملہ سن کر میرے تصور میں وہی خطرات گردش کرنے لگے اور ایک لمحے کیلئے میں نے سوچا کہ جو بات کہنا چاہتا تھا ابھی کر دوں، مگر اب چونکہ تلخی، اور گرما گرمی کی کیفیت بن چکی تھی تو جس بات کا ارادہ تنبیہ کرنے کا تھا ، اب وہ ازدواجی رشتہ ختم کرنے کی دھمکی کےشکل اختیار کر چکی تھی اور میں عجلت میں یہ جملہ بول بیٹھا "جس دن تو نے مجھے حرام کمائی پر مجبور کردیا اس دن سے تو میری طرف سے آزاد ہے"۔ اس جملہ کو بولے تقریباً دس سال گزر چکے ہیں۔ اب مجھے اُس جملے کے دوران کی نیت پوری طرح یاد نہیں ، مگر جب ذہن پر زور دیتا ہوں تو درج ذیل میں سے کبھی کوئی گمان غالب ہوتا ہے اور کبھی کوئی ا-لفظ "آزاد" سے بے رخی اور شوہر ہوتے ہوئے رعیت کا حق نہ استعمال کرنے کی دھمکی مقصود تھی" ، مگر جملہ ختم ہونے کے فوراً بعد خیال آیا کہ اس لفظ سے تو ازدواجی رشتہ ختم ہونے کی شرط قائم ہو چکی ہے۔
ب-لفظ "آزاد"سے علیحدگی کا اختیار دینے کی دھمکی مقصود تھی " ، مگر جملہ ختم ہونے کے فوراً بعد خیال آیا کہ اس لفظ سے تو ازدواجی رشتہ ختم ہونے کی شرط قائم ہو چکی ہے۔
ج- لفظ "آزاد" سے ازدواجی رشتہ ختم کرنے کی صرف دھمکی مقصود تھی( حقیقتاً ارادہ نہیں تھا)، مگر جملہ ختم ہونے کے فوراً بعد خیال آیا کہ اس لفظ سے تو ازدواجی رشتہ ختم ہونے کی شرط قائم ہو چکی ہے۔
د- لفظ "آزاد" سے ازدواجی رشتہ ختم کرنے کی صرف دھمکی مقصود تھی( حقیقتاً ارادہ نہیں تھا)، مگر جملہ ختم ہونے سے پہلے ایک لمحے کیلئے خیال آیا کہ اس لفظ سے تو ازدواجی رشتہ ختم ہونے کی شرط قائم ہو رہی ہے، مگر میری زبان فوری طور پر نہیں رکی اور کوئی معقول اور مختصر متبادل لفظ ذہن میں نہ آنے کی وجہ سےکچھ ذہنی تناو، عجلت اور کنفیوزن کی ملی جلی کیفیت میں یہی لفظ بول دیا، جملہ بولنے کے بعد اپنے آپ کو تسلی دی کہ میرا مقصود تو یہ نہیں تھا اور چونکہ الفاظ سے ایک شرط قائم ہو چکی ہے، لہٰذا اب شرط کی منسوخی کے الفاظ بول کر اسے منسوخ کر دوں گا (اُن دنوں میں اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا تھا کہ منسوخی کے الفاظ بول کر شرط منسوخ کی جا سکتی ہے)
درج بالا صورتوں میں سےمیرا زیادہ گمان "د" پر ہےیعنی اس جملہ میں میرا یہ مقصد نہیں تھا کہ جس دن میں کوئی بھی حرام ذریعہ آمدنی اختیار کروں یا بیوی کی طرف سے ایسا کرنے پر مجبور کردیا جاؤں اسی دن سے رشتہ ازدواج ختم
ہو جائے، بلکہ لفظ "آزاد" سے رشتہ ازدواج ختم کرنے کی صرف دھمکی دینا مقصود تھا۔
مذکورہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے میرے کچھ درج ذیل سوالات ہیں :
1-کیا مذکورہ جملہ بولنے کی وجہ سے ہمارا ازدواجی رشتہ ایک شرط میں داخل ہو چکا ہے جس کے پورا ہوتے ہی یہ رشتہ ختم ہوجائےگا؟
2- اگر ہمارا ازدواجی رشتہ مذکورہ شرط میں داخل ہو چکا ہے تو کیا کسی بھی قسم کا ایسا ذریعہ جو جائز نہ ہو یا جس کا جائز ہونا مشکوک ہو، اگر میں کمائی کیلئے استعمال کروں یا بیوی کی طرف سے مجبور کیا جاؤں یا کہ بیوی صرف اسکا مشورہ یا ترغیب دے ( یعنی زیادہ مجبور نہ کرے) ، کیا اس سے وہ شرط پوری ہو جائے گی یا صرف رشوت یا اپنے عہدے کے غلط استعمال یا اس پر مجبور کیے جانے یا اس پر اکسائے جانے پر پوری ہوگی؟ دراصل اس وقت میرے ذہن میں صرف انہی دنوں مذکورہ ذرائع کی طرف مائل ہونے کا خطرہ تھا ۔ اسکے علاوہ دوسرے مشکوک ذرائع مثلاً انشورنس میں یا بنک وغیرہ میں سرمایہ کاری کا خیال میرے ذہن میں نہیں تھا ، اس وقت لفظ "حرام کمائی" میں میرے تصور میں دوسرے حرام یا مشکوک ذرائع نہ تو داخل تھے اور نہ ہی خارج۔
3-اگربالفرض شرط قائم ہو چکی ہے ،اسکے بعد بیوی مجھے کسی ایسے ذریعہ آمدنی کو اختیارکرنے کا کہتی ہے جو ہے تو حرام ، مگر وہ اسے حرام نہیں سمجھتی یا اُسے اسکے حرام ہونے کا علم نہیں یا میں خود بیوی کے کہے بغیر اپنی آمدنی بڑھانے کیلئے کسی حرام ذریعہ کو نادانستہ طور پر اختیار کرلوں تو کیا ایسی صورت میں بھی وہ شرط پوری ہو جائے گی؟
4ـ اگر بالفرض شرط قائم ہو چکی ہے اور وہ شرط پوری بھی ہو جائے اور ازدواجی رشتہ ختم ہو جائے تو اس کے بعد دوبارہ رشتہ ازدواج میں داخل ہونے کی کیا صورت ہوگی( یعنی دوبارہ نکاح کرنا ہوگا یا رجوع کرنا ہوگا) ؟
5ـ اگر ہم دوبارہ آپس میں نکاح یا رجوع (اس وقت کے موقع محل کے مطابق جو حکم ہو)کر لیں، تو کیا نئے نکاح کے بعد پرانی شرط برقرار رہے گی یا ختم ہو چکی ہو گی؟
6ـ کیا مجھ پر لازم ہے کہ ذہن پر مزید زور دے کر یاد کروں کہ میری اصل نیت کیا تھی یا پھر اپنی نیت کے بارے میں زیادہ گمان کے مطابق معاملہ کرنے کا مکلف ہوں (کم وبیش ۲۰ دن سے ذہن پر زور دے کر یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں). براہ مہربانی رہنمائی فرما ئیے گا اور دعاؤں میں یا د فرمائیے گا۔
واضح ہو کہ جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو اس شرط کے پائے جانے پر طلاق واقع ہو جاتی ہے،چنانچہ صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب مذکور جملہ "جس دن تو نے مجھے حرام کمائی پر مجبور کر دیا، اس دن سے تو میری طرف سے آزاد ہے،" کہا تو اس کے ذریعے سائل نے طلاق کو بیوی کی طرف سے حرام کمائی پر مجبور کیے جانے کے ساتھ معلق کر دیا ہے، لہٰذا اگر بیوی اپنے نان نفقہ میں زیادتی کی وجہ سے واقعی سائل کو کسی ایسی کمائی پر مجبور کردے ، جوحقیقتاًبھی ناجائزاورحرام ہواور سائل اس کے مجبور کرنے پر اس حرام کمائی کواختیارکرلے ، تو اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی، البتہ اگر سائل خود اپنی رضامندی سے حرام کمائی اختیار کرے، اور اس میں بیوی کی طرف سے کوئی جبر شامل نہ ہو، تو چونکہ معلق کی گئی شرط (یعنی بیوی کا مجبور کرنا) پائی نہیں گئی، اس لیے ایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی، اسی طرح محض حرام کمائی کا گمان کرنے، یا بیوی کی طرف سے صرف مشورہ دینے یا ترغیب دینے سے بھی طلاق واقع نہیں ہوگی، جبکہ پہلی صورت میں جب ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائے تو شوہر (سائل) عدت کے دوران، یعنی تین ماہواری مکمل ہونے سے پہلے، رجوع کر سکتا ہے، رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ وہ زبانی طور پر رجوع کا اظہار کرے (مثلاً یہ کہے: "میں نے رجوع کر لیا") یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لے، یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھو لے، ان تمام صورتوں میں رجوع درست ہو جائے گا اور نکاح بدستور برقرار رہے گا، لیکن اگر عدت کے دوران رجوع نہ کیا جائے تو عدت ختم ہونے پر نکاح بھی ختم ہو جائے گا، اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی، اگر بعد میں دونوں دوبارہ اکٹھے رہنا چاہیں تو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نیا مہر مقرر کر کے ایجاب و قبول کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہوگا، یہ بھی واضح رہے کہ رجوع کرنے یا تجدیدِ نکاح کے بعد سابقہ شرط باقی نہیں رہتی، لہٰذا آئندہ اس شرط کے پائے جانے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ تاہم ایک طلاق واقع ہو جانے کے بعد سائل کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، اس لیے آئندہ طلاق کے معاملے میں نہایت احتیاط لازم ہے۔
كما في الهداية: وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق وهذا بالاتفاق( باب الايمان في الطلاق ج:٢ ص:٨١،ناشر: انعامية)
و فی الہندیۃ: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق (الی قولہ) التعليق بصريح الشرط وهو أن يذكر حرف الشرط يؤثر في المرأة المعينة وغير المعينة، اہ (کتاب الطلاق ، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، ج:١، ص: ٤٢٠، مط: ماجدية )
وفی الہندیۃ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.اھ (الباب السادس فی الرجعۃ،ج: ١،ص: ٤٧٠، مط: ماجدية)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0