السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مفتیانِ کرام سے ایک مسئلہ کے بارے میں رہنمائی درکار ہے ۔ زید نے کسی گھریلو مسئلہ کی وجہ سے اپنی بیوی سے کہا کہ قاسم جب تک اپنی بری حالت ( نشہ/ بری عادات ) ختم نہیں کرتا میرے گھر نا آئے، تب غصہ پر کنٹرول نہ ہوتے ہوئے خود سے مخاطب ہو کر کہہ دیا کہ اب اگر قاسم ( اپنی بری عادات ختم کرنے تک ) گھر آیا تو میری بیوی میری طرف سے فارغ ہے، اب زید اچانک بیمار ہو گیا اور کسی کے بلانے پر قاسم اسی حالت میں گھر آ گیا، ( جبکہ بیوی یا قاسم کو اس بات کا پتہ ہی نہیں ) کیا خود کو مخاطب کر کے اس بات کے کہنے سے میاں بیوی کا رشتہ متاثر ہوا ہے؟ یاد رہے زید پہلے برائے تنبیہ مختلف اوقات میں 2 طلاقیں دے کر رجوع کر چکا ہے۔ قاسم کی وجہ سے کافی جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور دلی دکھ ہوا تھا اس لیے اس موقع پر بیوی سے کہا کہ قاسم اپنی حالت درست کرنے تک یہاں نہ آئے اور خود غصہ پر قابو نہ رکھتے ہوئے ایسے الفاظ خود سے مخاطب ہو کر کہہ دیے جن کا مطلب شاید یہی تھا کہ قاسم کو اگر اپنی بہن سے اتنا لگاؤ ہے تو اپنے گھر رکھ کر اپنا شوق پورا کر لیں، اور مزید بات یہ پتہ چلی کہ جب قاسم گھر آیا تو اس نے 3،4 دن سے نشہ چھوڑا ہوا تھا، بعد میں جا کر دوباہ کر لیا،۔
واضح ہوکہ طلاق کو کسی شرط کےساتھ معلق کرنے کی صورت میں اس شرط کے پائے جانے کے ساتھ ہی طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔لہذا صورت مسئولہ میں اگر زید نےمذکورالفاظ (قاسم اپنی بری عادت ختم کرنے تک گھر آیا تو میری بیوی میری طرف سے فارغ ہو) باقاعدہ زبان سے اس قدر آواز کے ساتھ کہہ دیے ہوں کہ اس کی آواز اس کی کانوں تک پہنچی ہو تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق معلَّق ہو چکی تھی۔ جس کے بعد اگرمسمی قاسم ا سی حالت میں گھر آگیا ہو،چونکہ دو تین دن نشہ چھوڑ دینےسےعرفا ًعادت ختم کرنا شمار نہیں ہوتا،اس لیےایسی صورت میں شرط پائے جانے کی وجہ سے ایک طلاق بائن اور مجموعی طور پر تیسری طلاق واقع ہونے کی وجہ سے حرمتِ مغلَّظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں،جبکہ بیوی عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما قال اللّٰہ تعالیٰ : اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ (الہ قولہ) فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ الایۃ(البقرۃ آیت : 229،230)
وفی الھندیۃ: و اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاً مثل ان یقول لأمرأتہ ان دخلت الدار فأنت طالق الخ (فصل فی تعلیق الطلاق الخ ،ج:1،ص:420،ط:ماجدیۃ)
وفی الھدایۃ: وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ واثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحا صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا اویموت عنھا اھ(کتاب الطلاق،ج:2،ص:92،ط:انعامیۃ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0