کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میری بہن کی شادی ہوگئی ،لیکن ان کےشوہر نے گھر کی ذمہ داری نہیں سنبھالی ،نشہ میں مبتلا ہے ،گھر سے غائب رہتا ہے، ہم نے پہلے بھی ان سے اسٹامپ پیپر پر تحریری معاہدہ لیاتھا کہ وہ گھر کی ذمہ داری سنبھالے گا لیکن معاہدہ کے مطابق عمل نہ کرسکا،پھر ہم نے دوبارہ ان سے اسٹامپ پیپر پرمعاہدہ لکھا کہ اگر آئندہ ذمہ داری نہ سنبھالی تو بیوی کو طلاق واقع ہوجائیگی، کاپی منسلک ہے اب اس نے پھر عادت کے مطابق ذمہ داری نبھانے میں ناکامی دکھادی ہے اور ذمہ داری نہ سنبھال سکا تو کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے؟اور آئندہ کے لیے کیا حکم ہے؟
نوٹ:ذمہ داری نبھانے میں ناکامی سے مراد یہ ہے کہ وہ بیوی اور بچی کا خرچہ بھی نہیں اٹھا رہا اور اسکا خیال بھی نہیں رکھ رہا،اور اکثر وقت گھر سے باہر رہتا ہے،اور پہلی مرتبہ جب معاہدہ کیا تھا کہ وہ گھر کی ذمہ داری سنبھالے گا اور نشہ چھوڑ دےگا تو پہلے معاہدے میں اس نے نشہ چھوڑ دیا تھا، لیکن اب جب ہم نے دوبارہ معاہدہ کیا جس میں اس نے اپنی ذمہ داری کو طلاق کے ساتھ معلق کیاہے، اب وہ نشہ بھی کرتا ہےاور بیوی اور بچی کا نان ونفقہ بھی نہیں دیتا۔(بیوی اور بچی کی ضروریات پوری نہیں کرتا)۔
واضح ہو کہ اگر شوہر طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق (مشروط) کردے، مثلاً یہ کہے یا لکھے کہ ”اگر میں فلاں کام نہ کروں/ فلاں ذمہ داری ادا نہ کروں تو میری بیوی کو طلاق ہوگی“، تو ایسی صورت میں شرط کے پائے جانے پر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔لہذاصورتِ مسئولہ میں جب سائل کے بہنوئی نے باقاعدہ تحریری معاہدے میں یہ بات تسلیم کی کہ”وہ آئندہ نشہ نہیں کریگااوراپنی اہلیہ اوراپنی بچی کی تمام ضروریات پوری کریگا،اگراپنی باتوں پرعمل پیرانہ ہواتومیری طرف سے طلاق واقع ہوجائیگی اورہمارے درمیان رشتہ ازدواج منقطع ہوجائے گا “تواس معاہدہ سے سائل کی بہن پرایک طلاق بائن معلق ہوگئی تھی، چنانچہ اگرواقعۃً سائل کے بہنوئی کی طرف سے مذکورمعاہدہ کی خلاف ورزی پائی گئی تو ایسی صورت میں وہ شرط پوری ہو گئی، لہٰذا شوہر کی طرف سے معلق کی گئی طلاق واقع ہو چکی ہے۔ ان دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اورعورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے،البتہ اگرمیاں بیوی ساتھ رہنا چاہیں ، تو دورانِ عدت باہمی رضامندی سے نیا مہر مقرر کرکےشرعی گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرکے تجدیدنکاح کرنالازم ہوگا، اور آئندہ کے لیے شوہرکوصرف دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا،بشرطیکہ اس سے قبل کوئی طلاق نہ دی ہو۔لہذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی الدر المحتار: (و) یقع (بقولہ) (أنت طالق بائن أو البتۃ) وقال الشافعی: یقع رجعیا لو موطوءۃ (أو أفحش الطلاق أو طلاق الشیطان أو البدعۃ أو أشر الطلاق أو کالجبل أو کألف أو ملء البیت أو تطلیقۃ شدیدۃ أو طویلۃ أو عریضۃ أو أسوأہ أو أشدہ أو أخبثہ) أو أخشنۃ (أو أکبرہ أو أعرضہ أو أطولہ أو أغلظہ أو أعظمہ واحدۃ بائنۃ) فی الکل لأنہ وصف الطلاق بما یحتملہ الخ (کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 276، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی رد المحتار تحت: (قولہ أو کالجبل) قال فی البحر: الحاصل أن الوصف بما ینبیء عن الزیادۃ یوجب البینونۃ والتشبیہ کذلک أی شیء کان المشبہ بہ کرأس إبرۃ وکحبۃ خردل وکسمسمۃ لاقتضاء التشبیہ الزیادۃ الخ (کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 277، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھدایۃ: وإذا وصف الطلاق بضرب من الزیادۃ أو الشدۃ کان بائنا مثل أن یقول أنت طالق بائن أو البتۃ (إلی قولہ) وکذا إذا قال أنت طالق أفحش الطلاق : لأنہ إنما یوصف بھذا الوصف باعتبار أثرہ وھو البینونۃ فی الحال فصار کقولہ بائن (إلی قولہ) ولو قال أنت طالق تطلیقۃ شدیدۃ أو عریضۃ أو طویلۃ فھی واحدۃ بائنۃ لأن ما لا یمکن تدارکۃ یشتد علیہ وھو البائن الخ (فصل فی تشبیہ الطلاق ووصفہ، ج: 2، ص: 69،70، ط:انعامیہ)۔
وفی الھندیۃ : واذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاً مثل ان یقول لأمرأتہ ان دخلت الدار فأنت طالق الخ ( فصل فی تعلیق الطلاق الخ ، ج 1 ، ص 420 ، ط : ماجدیہ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0