کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ: ہم کیریبین واٹر کے نام سے پانی کا پلانٹ چلاتے ہیں،زمین سے پانی نکال کر اسے (آر،او) کیا جاتا ہے ،تاکہ فاسد مادے ختم ہوجائیں،اور پھر اس میں حسبِ ضرورت منرل شامل کیا جاتا ہے ، جو حفظانِ صحت کے اصولوں کے عین مطابق ہوتا ہے،اس کےبعد لیبارٹریز سےاپروول لیا جاتا ہے۔ لہذا یہ پانی اس سے کہیں بہتر ہے ،جو کہ لائنوں میں آرہا ہے ،یا جو براہِ راست بور سے لیا جاتا ہے۔(بور کے پانی میں ٹی ڈی ایس کا بڑھ جانا،اسی طرح لائن کے پانی میں کیمیکلز کا پایا جانا مضر صحت ہے)۔سوال یہ ہے کہ: کیا یہ کاروبار ازروئے شرع درست ہے؟
صورتِ مسؤلہ میں مذکور پانی میں اگر مضر صحت اجزاء شامل نہ کیے جاتے ہوں،تو اس طرح زمین سے پانی نکال کر فروخت کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
كما في الشامية: (قوله وقيل لا) اي لا يملكه وهو اختيار القدوري الخ مطلب صاحب البئر لا يملك الماء وقال الرملي ان صاحب البئر لا يملك الماء كما قدمه في البحر في كتاب الطهارة في شرح قوله وانتفاخ حيوان عن الولوالجية فراجعه وهذا ما دام في البئر اما اذا اخرجه منها بالاحتيال كما في السواني فلا شك في ملكه له لحيازته له في الكيزان ثم صبه في البرك بعد حيازته تامل ثم حرر الفرق بين ما في البئر وما في الجباب والصهاريج الموضوعة في البيوت لجمع ماء الشتاء بانها اعدت لاحراز الماء فيملك ما فيها فلو اجر الدار لا يباح للمستاجر ماؤها الا باباحة المؤجر ملخصا اھ (5 /67)
وفی الفتاوى الهندية:[الفصل السابع في بيع الماء والجمد]لا يجوز بيع الماء في بئره ونهره هكذا في الحاوي وحيلته أن يؤاجر الدلو والرشاء هكذا في محيط السرخسي فإذا أخذه وجعله في جرة أو ما أشبهها من الأوعية فقد أحرزه فصار أحق به فيجوز بيعه والتصرف فيه كالصيد الذي يأخذه كذا في الذخيرة وكذلك ماء المطر يملك بالحيازة كذا في محيط السرخسي.وأما بيع ماء جمعه الإنسان في حوضه ذكر شيخ الإسلام المعروف بخواهر زاده في شرح كتاب الشرب أن الحوض إذا كان مجصصا أو كان الحوض من نحاس أو صفر جاز البيع على كل حال وكأنه جعل صاحب الحوض محرز الماء بجعله في حوضه،ولكن يشترط أن ينقطع الجري حتى لا يختلط المبيع بغير المبيع‘‘اھ(121/3)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1