السلام علیکم !
میں ایک تاجر ہوں، جس کو دوسرے ممالک سے چیزیں لانے میں مہارت ہے،دبئی میں ایک بندہ ہے، جو میرے ساتھ شرکت کرنا چاہتا ہے، میں ویتنام اور اندو نیشیا سے کتابیں خریدتا ہوں ،دبئی کے لئے، جب کتابیں اس کو ملتی ہیں، تو وہ رقم ادا کرتا ہے،پیسے ادا کرنے کے لئے وہ عموماً بینک سے قرض لیتا ہے سود پر، پھر جب کتاب فروخت ہو جاتی ہیں، تو وہ مجھے نفع يا نقصان دیتا ہے۔ براہِ مہربانی مجھے یہ بتائیں کہ ایسی شراکت جائز ہے؟
کتابیں خرید کر آگے فروخت کرنے کی صورت میں شخصِ مذکور کا سائل کو طے شدہ حصہ بطورِ کمیشن و غیرہ دینا شرعاً بھی جائز اور درست ہے ۔
كما في الدر المختار: وفي الأشباه: استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم اھ(6/ 42)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1