میں سائل عرض کرتا ہوں کہ میری بہن اور اس کے شوہر کے درمیان گھریلو تنازعہ پیدا ہوا، جس پر میری بہن نے اپنے شوہر کے خلاف تھانے میں درخواست دے دی۔ پھر بعد میں ہم دونوں فریقین (فریق اول: میں اور میری بہن، فریق ثانی: ) نے آپس کے مشورے سے جرگے کے ذریعے مسئلہ حل کرنے پر اتفاق کیا۔ ہم نے جرگے داران کو تحریری طور پر اختیار دے دیا کہ وہ جو فیصلہ کریں گے، ہم اسے بغیر کسی اعتراض کے مانیں گے۔ اس تحریر میں یہ بھی لکھا گیا کہ اگر کوئی فریق جرگے کا فیصلہ نہیں مانے گا تو اس پر تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ البتہ یہ واضح رہے کہ یہ طلاقیں صرف کاغذ پر لکھی گئی تھیں، عملاً کسی نے طلاق نہیں دی تھی۔ میں نے بھی اس تحریر پر دستخط کیے کہ میں بھی جرگے کے فیصلے کو مانوں گا اور میری بہن بھی اس کی پابند ہو گی۔ جرگے نے بعد میں فیصلہ کر کے پہلے شوہر کو سنایا، اس نے فیصلہ قبول کر لیا۔ پھر جب ہمیں، یعنی مجھے اور میری بہن کو فیصلہ سنایا گیا تو میں نے عرض کیا کہ اس فیصلے میں میری بہن کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، اگر ممکن ہو تو یہ فیصلہ واپس لے لیں۔ میری بہن نے بھی فیصلہ ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ اگر یہ فیصلہ مسلط کیا گیا تو وہ خودکشی کرے گی۔ جرگے داران نے ہم دونوں کی بات سنی، ہماری ذہنی کیفیت اور خطرے کو دیکھتے ہوئے وہیں اسی مجلس میں ہمیں کہہ دیا کہ ہم اپنا فیصلہ واپس لیتے ہیں اور جو اختیار آپ نے ہمیں دیا تھا، وہ ہم واپس کرتے ہیں۔ اس کے بعد جرگے داران نے فریق ثانی (شوہر) کو بھی کال کر کے اطلاع دی کہ ہم نے فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ اب بعد میں جب ہم نے تسلی سے معاملے پر غور کیا تو ہم، یعنی میں اور میری بہن، فیصلہ ماننے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔
لیکن اب چند باتیں ہمارے لیے وضاحت طلب ہیں:
1. کیا جرگے داران کا فیصلہ سنانے سے ہی ہم پر فوراً لاگو ہو گیا تھا؟
2. اگر فیصلہ سناتے ہی لازم ہو گیا تھا، تو کیا جرگے داران اسے واپس لے سکتے تھے یا نہیں؟
3. اگر فیصلہ لازم ہو چکا تھا اور جرگے داران اسے واپس نہیں لے سکتے، تو ہم نے اس وقت فیصلہ اس لیے نہیں مانا کہ ہمیں یہی سمجھایا گیا کہ فیصلہ واپس ہو چکا ہے، اب اگر ہم فیصلہ مانتے ہیں تو کیا میری طرف سے تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی یا نہیں؟ کیونکہ انکار ہماری طرف سے ارادے یا ضد کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ غلط فہمی کی بنیاد پر تھا۔
براہ کرم اس معاملے کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں۔
واضح ہوکہ جس طرح زبانی طور پرکسی شرط کے ساتھ طلاق معلق کرنے سے تعلیقِ طلاق مؤثرہوتی ہے،اسی طرح تحریری طور پر کسی شرط وغیرہ کے ساتھ طلاق معلق کرکے اس پردستخط کرنے کی صورت میں طلاق معلق ہوجاتی ہے،اسی طرح فریقین کا باہمی رضامندی سےکسی کو حکم/ثالث بنا کر فیصلہ کا اختیاردینے کے بعدفیصلہ کرتے ہی وہ فیصلہ نافذ العمل ہوتاہے،اوراگرکسی دوسرے معاملے کواس فیصلہ کے ساتھ معلق کیاگیاہوتو وجودِشرط(فیصلہ) پائےجاتے ہی وہ معاملہ بھی ازخودوجودمیں آجاتاہے،کسی ایک فریق کے اس فیصلہ سےانکارپریکطرفہ طورپرحَکم /ثالث کو اپنا فیصلہ واپس لینے کا اختیار نہیں ہوتا، بشرطیکہ وہ شرعی ظابطے کے خلاف نہ ہو، لہذا سوال میں بیان کردہ تفصیل کے مطابق جب فریقین نے باہمی رضامندی سے تحریری طور پر جرگے کومکمل اختیار دیدیا، اور اس تحریر میں یہ شرط بھی طے کر دی کہ جرگہ جو بھی فیصلہ کرے گا، وہ ہمیں بلا اعتراض قبول ہوگا، اور نہ ماننے کی صورت میں خلاف کرنے والے کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوں گی، تو شرعاً بھی اس تحریری معاہدہ سے طلاق معلق ہو چکی تھی، اور جرگے کافیصلہ کرنے اور فریقین کو آگاہ کر دینے کے ساتھ وہ فیصلہ فوراً نافذبھی ہوگیا تھا، جس پر عمل درآمدفریقین کے ذمہ لازم تھا، لیکن فیصلہ سنانے کے بعدجب سائل نے اس پراپنے تحفظات کا اظہار کرکےاسے ماننےسےانکار کردیا،تو اس کی وجہ سےسائل کی بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتااورحلالہ شرعیہ کے بغیردوبارہ عقدنکاح بھی نہیں ہوسکتااورعورت عدت گزارنے کے بعددوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہے۔
كما في البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري : في عمدة الفتاوى لو قال الموكل كلما أخرجتك عن الوكالة فأنت وكيلي فله أن يخرجه من الوكالة بمحضر منه ما خلا الطلاق، والعتاق لأنهما مما يتعلقان بالشرط، والإخطار بمنزلة اليمين ولا رجوع عن اليمين اهـ.» (3/ 361)
و في المبسوط» للسرخسي: وعلماؤنا رحمهم الله تعالى قالوا التعليق بالشرط قد صح ووجد الشرط وهي محل لوقوع الطلاق عليها فينزل ما تعلق»(6/ 83)
و في الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية : وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا»(1/ 420)
و فی فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي : وعرف في الطلاق أنه لو قال إن دخلت فأنت طالق إن دخلت فأنت طالق إن دخلت فأنت طالق فدخلت وقع عليها ثلاث تطليقات.» (5/ 79)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0