کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک مشتری نے ایک گاڑی خریدی قسطوں پر, کچھ دن بعد گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی، تو کیا اب بائع مشتری کے ساتھ اس نقصان میں شریک ہوگا؟
اگر گاڑی خریدنے کے بعد مشتری نے اسے باضابطہ اپنے قبضہ میں لے لیا ہو، اور اس کے بعد اس کی ذاتی غلطی یا قدرتی آفت سے وہ گاڑی تباہ ہوئی ہو تو یہ نقصان خریدار کا ہی کہلائےگا، اور بیچنے والا شرعاً نقصان میں شریک نہیں، الا یہ کہ وہ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ ہمدردی کے طور پر اس کو کچھ معاف کر دے، اور اگر باضابطہ قبضہ سے قبل تباہ ہوئی ہے، تو یہ بیچنے والے کا نقصان ہے ،اور خریدار اس کے ساتھ شریک نہ ہوگا۔
ففي الهداية شرح البداية: فلو قبضه المشتري وهلك في يده في مدة الخيار ضمنه بالقيمة لأن البيع ينفسخ بالهلاك لأنه كان موقوفا ولا نفاذ بدون المحل فبقي مقبوضا في يده على سوم الشراء وفيه القيمة ولو هلك في يد البائع انفسخ البيع ولا شيء على المشتري اعتبارا بالبيع الصحيح المطلق اھ (3/ 28) ۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1