کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک شخص نے ایک مکان کسی سے خریدا ہے ،اور اس نے نشانی کی رقم (ٹوکن) دی ہے، وہ شخص جو مکان بیچ رہا ہے ،وہ بعد میں مکر جاتا ہے کہ وہ مکان بیچنا نہیں چاہتا ہے، تو آج کل کے اصول کے تحت اس کو نشانی رقم کی دوگنی رقم ادا کرنی ہوگی۔ کیا یہ نشانی حلال ہوگی؟ فتویٰ بمع مہر ارسال کریں۔
زبانی بیع کے بعد بیعانہ وصول کرنے سے خرید وفروخت کا معاملہ ہو جاتا ہے، اس لیے خریدار کی مرضی کے بغیر مکان حوالہ کرنے سے انکار شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔ تاہم اگر خریدار بھی اس چیز کے چھوڑنے پر رضامند ہو تو اپنی دی ہوئی رقم سے زائد لینا اس کے لیے بھی حلال نہیں۔ والله أعلم بالصواب!
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1