کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کاشتکار حضرات اپنی زمینی پیداوار اجناس یا پھلوں کی صورت میں فروخت کرنے کیلئے منڈی میں لاکر آڑھتی کے حوالے کر دیتے ہیں، پھر وہ آڑھتی ان اشیاء کو پرچون کے تاجروں کے ہاتھ فروخت کرتا ہے، اور اس کام پر کاشت کاروں سے کمیشن وصول کرتا ہے۔ مثلاً ہزار میں سےسو روپے کمیشن ہوگا ،یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ بسا اوقات کا شتکاروں کو رقم کی ضرورت ہوتی ہے ،وہ آڑھتی سے قرض لیتےہیں، اس صورت میں قرض خواہ آڑھتی، مقروض کا شتکار سے مذکورہ کام پر عام معمول سے زیادہ کمیشن وصول کرتا ہے، یہ زیادتی شرعاً اس کیلئے جائز ہے یا نہیں؟ اگر یہ ناجائز ہے تو اس کی جائز صورت کیا ہو سکتی ہے ؟ جزاکم اللہ خیرا!
آڑھتی کا کاشتکاروں سے سامان لے کر آگے فروخت کرنا اور اپنے اس عمل پر طے شدہ کمیشن لینا شرعاً جائز اور درست ہے، مگر قرض دینے کی وجہ سے مقروض کا مال فروخت کرنے پر کمیشن میں زیادتی کی شرط لگانا سود ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ اس کے جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کاشتکار میوہ وغیرہ مال تیار ہونے کے بعد آڑھتی کو فروختگی کا وکیل بنانے کی بجائے آڑھتی کے ہاتھ نفع رکھ کر مناسب قیمت پر فروخت کر دے ،اور وہ اس کی قیمت سے قرض کے بقدر کٹوتی کے بعد بقیہ رقم کی ادائیگی کر دے ،اور پھر آڑھتی اس مال کو آگے نفع کے ساتھ فروخت کر دیا کرے۔ اس سے دونوں حضرات کی مراد پوری ہو جائے گی۔
کما في حاشية ابن عابدين: وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه اھ (6/ 63)۔
وفي الفتاوى الهندية: إذا قال لرجل بع هذا المتاع ولك درهم أو قال اشتر لي هذا المتاع ولك درهم ففعل فله أجر مثله لا يجاوز به الدرهم وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل اھ (4/ 450)۔
وفي الدر المختار: القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه. وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166) ۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1