میری ایک دکان ہے، جس میں قیمتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، اگر ہم گاہگ کو نوے(۹۰) رنگیٹ (ملائیشائی کرنسی) بتاتے ہیں، تو کم کراتا ہے ، یہاں تک کہ قیمت اسی (۸۰) یا ستر رنگیٹ کی آجاتی ہے، لیکن کچھ گاہک کم نہیں کراتے، تو کیا منافع کی کوئی حد ہے؟ کیا آپ بیچنےوالے کو سچ کہنے کی نصیحت کرینگے؟ یا زیادہ قیمت بتانے کے بارے میں کہیں گے؟ اصل قیمت سے، مذہبِ امام شافعی کے تحت جواب دیں۔
منافع لینے کی اتنی مقدار جسے مارکیٹ کے عام تاجر لوگ زائد تصور نہ کرتے ہوں، بلاشبہ جائز ہے، اس سے زائد کا وصول کرنا مکروہ ہے۔ جن لوگوں پر مہنگا سامان بیچ دیا ہو، اگر معلوم ہوں ،اور وہ دوبارہ خریداری کے لئے آجائیں، تو دوسرا سامان انہیں کم قیمت پر فراہم کیا جائے، تاکہ کراہت ختم ہو جائے، اور وہ معلوم نہ ہوں ،تو استغفار کرنا چاہیئے ۔
تاہم اس سلسلہ میں بہتر یہ ہے کہ ہر شئی کی مناسب نفع کے ساتھ قیمت متعین کر کے ’’ایک دام‘‘ کی صراحت کر دی جائے تو اس میں ہر قسم کے گاہگ کے لئے سہولت رہےگی۔ اور اگر کوئی اسی قیمت پر بھی سامان لے جائےگا تو کراہت بھی نہیں رہےگی۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1