کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید قسطوں پر موٹر سائیکل خرید کر اس کو (قسطیں ختم ہونے سے پہلے) نقد بیچ سکتا ہے کہ نہیں؟ آیا اس طرح کرنا شریعتِ مطہرہ میں جائز ہے ؟ سود کے زمرے میں تو نہیں آتا؟
واضح ہو کہ اگر یہ دونوں معاملات یعنی قسطوں پر خریدنا اور اس کے بعد نقد میں بیچنا الگ الگ افراد کے ساتھ ہو واپس پہلے شخص پر بیچنا نہ ہو، اور قسطوں کی ادائیگی سے قبل اُسے آگے فروخت کرنے پر بیچنے والے کو اعتراض بھی نہ ہو، اور اسی طرح قسطوں کا معاملہ کرتے وقت درجِ ذیل شرائط بھی ملحوظ ہوں ،تو اس طرح یہ دونوں معاملے شرعاً بھی جائز اور درست رہیں گے ورنہ نہیں، اور وہ شرائط یہ ہیں:
۱:اول یہ کہ عقد کے وقت نقد یا ادھار لینے کا معاملہ طے کیا جائے۔
۲: کل قیمت بتانے کے بعد کل قسطیں اور ہر قسط کی مقدار متعین کر لی جائے ۔
:3 اور اگر کسی وجہ سے قسط میں تاخیر ہو جائے، تو اس پر کچھ جرمانہ وغیرہ بھی وصول نہ کیا جائے، بصورتِ دیگر یہ عقد جائز نہیں رہےگا۔
ففي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد (إلی قوله) وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (13/ 13)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1