اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بلانے اور ڈرانے کے لئے موبائل فون سے کال کر کے بولے کہ "کل ظہر کے بعد عصر کی اذان سے پہلے گھر آجاؤ ،ورنہ طلاق "اور لفظ ادا کرتے ہو رک کر کال کاٹ دیتا ہے ،کچھ ٹائم بعد وہ اسے اس ایک دی گئی طلاق سے بچانے کے لیے موبائل پر میسجز کرتا ہے کہ کل ظہر سے عصر کی اذان کا ٹائم ہے، ورنہ وہی رک کر عدت کرنا اور پھر کہا کل ظہر سے عصر تک کا وقت ہے ،نہیں آئی تو طلاق ہو جائے گی،اور پھر کہ جو وقت مقرر کیا تھا ،اس سے پہلے پہلے پھر کہا کہ ابھی بھی وقت ہے، ظہر سے عصر کی اذان تک کا، آجاؤ ، طلاق سے بچ جاؤ گی ،ورنہ شریعت کے مطابق طلاق یافتہ کہلاؤ گی ، خلاصہ یہ ہے کہ موبائل پر جو میسج کیے تھے جس میں طلاق اور عدت کے الفاظ بولے تھے ،وہ تمام ایک طلاق سے بچانے اور تاکید کرنے کے لیے بولے تھے ،مفتی صاحب !کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہو جاتی ہےاور نکاح ٹوٹ جاتا ہے ؟
صورت مسؤلہ میں مذکور شخص نے جب یہ الفاظ"کل ظہر کے بعد عصر کی اذان سے پہلے گھر آجاؤ ،ورنہ طلاق "فقط ایک دفعہ کہے تو اس سے اس کی بیوی پرایک طلاق رجعی معلق ہوچکی تھی،چنانچہ بیوی کو معلق طلاق سے بچانے کے لیے بقیہ جو الفاظ کہے گئے ہیں تو اس سے مزید کوئی طلاق معلق نہیں ہوئی، لہذا بیوی اگلے دن ظہر کے بعد سے عصر کی اذان تک اگر واپس گھر نہیں آئی تو اس پر معلق ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے،چنانچہ اگر شخص مذکور عدت کے اندر زبانی طورپر رجوع کرلے (مثلاً میں رجوع کرتا ہوں وغیرہ الفاظ کہہ دے ) یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لے یابیوی کو شہوت کے ساتھ چھولے تو اس سے رجوع ہو جائیگا اور دونوں کا نکاح بدستور بر قرار رہے گا،ورنہ دوران عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح بالکلیہ ختم ہوجائے گا، اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی الھندیۃ : و اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاً مثل ان یقول لأمرأتہ ان دخلت الدار فأنت طالق الخ ( فصل فی تعلیق الطلاق الخ ، ج 1 ، ص 420 ، ط : ماجدیہ ) ۔
وفی الهدايۃ :وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض اھ (2/254)
وفیہ ایضاً :والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة (الی قولہ )قال: " أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو بنظر إلى فرجها بشهوة اھ (2/254)۔
و فی الہندیۃ : و لو قال عنيت بالثاني الإخبار عن الأول لم يصدق في القضاء و يصدق فيما بينه و بين الله تعالى و لو قال لامرأته أنت طالق فقال له رجل ما قلت فقال طلقتها أو قال قلت هي طالق فهي واحدة في القضاء كذا في البدائع اھ(1/355)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0