السلام علیکم!1۔ اگر کوئی عورت شادی سے پہلے کہے کہ "ہر مرد میرے لیے حرام ہے" یا "میں ہر مرد کے لیے حرام ہوں" تو کیا شادی کے بعد جب اس کا شوہر اسے حق دے گا تو اسے طلاق ہوجائے گی؟کیا کیا جائے تاکہ شادی کے وقت طلاق نہ ہو؟ 2. اگر عقد نکاح کے وقت طلاق کا عقد ہو اور عورت یہ کہے کہ "میں تم سے اس شرط پر نکاح کرتی ہوں کہ میں جب چاہوں اپنے آپ کو طلاق دے سکوں " اور شوہر جواب میں کہے "میں یہ قبول کرتا ہوں"کیا عورت کا یہ حق(طلاق) لینا درست ہے؟ کیا عورتوں کو ایجاب کے دوران یہ کہنا ضروری نہیں ہے؟ کیا ہوگا اگر وہ اپنی شادی سے بہت پہلے خود سے اس طرح کہے جبکہ اس کو اپنے شوہر کا بھی پتا نہیں ہے؟ کیا طلاق واقع ہو جائے گی اگر وہ اپنے ایجاب کے دوران ایسا کچھ نہ کہے؟ اگر اس طرح طلاق واقع ہو جائے تو کیا کیا جائے تاکہ شادی کے وقت طلاق نہ ہو؟ 3. اگر عورت اپنی شادی سے بہت پہلے کہے کہ "اگر میں شادی کروں گی تو مجھے طلاق ہے" کیا اسے اس کے شوہر کی طرف سے طلاق کا حق دینے کے فوراً بعد اس پرطلاق ہو جائے گی، حالانکہ وہ اس کا تلفظ نہیں کرتی؟ کیا پچھلے بیان کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں؟ کیا ہوگا اگر اس نے اپنی شادی سے بہت پہلے غلطی سے کہا کہ "میں طلاق لوں گی اگر میں شادی کروں گی" لیکن اس کے نکاح کے دوران ان الفاظ کا تلفظ نہ کریں، کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟ فقہ حنفی کے مطابق وضاحت فرمائیں، کیا کیا جائے تاکہ شادی کے وقت طلاق نہ ہو؟ وہ کیا احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتی ہے؟ 4. کیا ایسی عورتوں کے لیے کوئی طلاق ہے جہاں اس کا شوہر اسے حق نہ دیتا ہو لیکن اس کے کچھ کہنے کی وجہ سے وہ طلاق یافتہ ہو جاتی ہے، حالانکہ اس کا شوہر اسے حق نہیں دیتا؟ 5. جب عورت کو او سی ڈی یا وسوسہ ہو تو طلاق سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ اگر اس کا شوہر اسے نکاح سے پہلے، نکاح کے دوران یا شادی کے بعد حق نہ دے تو کیا عورت کے کہنے سے طلاق واقع ہو جائے گی؟ 6. جب وہ شادی سے پہلے طلاق کے بارے میں وسوسہ اور خیالات رکھتی ہو تو وہ خود کو کیسے تسلی دے؟
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں ، تاہم اصولی طور پر یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیئے کہ شریعت میں طلاق دینے کا حق مرد کو حاصل ہے نہ کہ عورت کو، لہذا کسی عورت کا یہ کہنا "ہر مرد میرے لیے حرام ہے" یا "میں ہر مرد کے لیے حرام ہوں" یا میں جس مرد سے نکاح کروں وہ میرے لئے حرام ہے" اور اس جملہ کے بعد وہ کسی مرد سے شادی کرلے تو اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی،البتہ اگر کوئی عورت نکاح کے وقت مرد سے یہ کہے کہ "میں تم سے اس شرط پر نکاح کرتی ہوں کہ میں جب چاہوں اپنے آپ کو طلاق دے سکوں " اور شوہر جواب میں کہے "میں یہ قبول کرتا ہوں"تو اس صورت میں اگرچہ شرعاً عورت کو طلاق دینے کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے،لیکن اس کے باوجود بھی فقط نکاح کرنے سے خودبخود اس پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، البتہ وہ جب چاہے اپنے اوپر ایک طلاق واقع کرسکتی ہے۔
کما فی الدرالمختار:(ويقع طلاق كل زوج عاقل بالغ) لصدوره من أهله في محله وهو بيان للمحل الخ(کتاب الطلاق،ج3،ص263،ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً: قال زوجني ابنتك على أن أمرها بيدك لم يكن له الأمر لأنه تفويض قبل النكاح.
وفی ردالمحتار تحت: (قوله: لم يكن له الأمر إلخ) ذكر الشارح في آخر باب الأمر باليد نكحها على أن أمرها بيدها صح. اهـ. لكن ذكر في البحر هناك أن هذا لو ابتدأت المرأة فقالت زوجت نفسي على أن أمري بيدي أطلق نفسي كلما أريد أو على أني طالق فقال: قبلت وقع الطلاق وصار الأمر بيدها، أما لو بدأ هو لا تطلق ولا يصير الأمر بيدها. اهـ.(ج3،ص27،ط:سعید)۔
وفی ردالمحتار: وقال أبو الليث: هذا إذا بدأ الزوج وقال: تزوجتك على أنك طالق، وإن ابتدأت المرأة فقالت: زوجت نفسي منك على أني طالق أو على أن يكون الأمر بيدي أطلق نفسي كلما شئت فقال الزوج: قبلت جاز النكاح ويقع الطلاق ويكون الأمر بيدها لأن البداءة إذا كانت من الزوج كان الطلاق والتفويض قبل النكاح فلا يصح.أما إذا كانت من المرأة يصير التفويض بعد النكاح لأن الزوج لما قال بعد كلام المرأة قبلت، والجواب يتضمن إعادة ما في السؤال صار كأنه قال: قبلت على أنك طالق أو على أن يكون الأمر بيدك فيصير مفوضا بعد النكاح.(ج3،ص242،ط:سعید)۔
وفی الدرالمختار: (قال لها أنت طالق متى شئت أو متى ما شئت أو إذا شئت أو إذا ما شئت فردت الأمر لا يرتد ولا يتقيد بالمجلس ولا تطلق) نفسها (إلا واحدة) لأنها تعم الأزمان لا الأفعال فتملك التطليق في كل زمان لا تطليق بعد تطليق (ولها تفريق الثلاث في كلما شئت ولا تجمع) ولا تثني لأنها لعموم الإفراد.(ج3،ص337،ط:سعید)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0