جناب میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ" اگر تم نے پانچ منٹ میں دروازہ نہیں کھولا تو تمہیں طلاق" پھر اس نے بیٹی کو کہا کہ دروازہ کھولو، یہ میرا معاملہ ہے،براہ مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور الفاظ "اگرتم نے پانچ منٹ میں دروازہ نہ کھولا تو تمہیں طلاق" کہتے وقت اگر سائل کی نیت وارادہ کسی بھی طرح فقط دروازہ کھلوانا ہواور بیوی کا بذات خود آکر دروازہ کھولنا مقصود نہ ہو، تو ایسی صورت میں اگر سائل کی بیوی نے بیٹی کے ذریعے پانچ منٹ کے اندر دروازہ کھلوا دیا ہو، تو سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ میاں بیوی کا نکاح بدستور برقرار ہے،اور انکا حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرنا بھی درست ہے، تاہم آئندہ کے لئے سائل کو اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے احتیاط کرنی چاہیئے، البتہ اگر سائل کی نیت بیوی کے ذیعے ہی دروازہ کھلوانا ہو یا سائل کی کوئی مخصوص نیت نہ ہو، تو پھر ایسی صورت میں بیوی کے بجائے بیٹی کے دوازہ کھولنے پر سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔
کما فی التاتار خانیۃ: رجل قال لامراتہ " ان لم تجیئنیی بمتاع کذا فانت طالق " فبعثت المراۃ بتلک المتاع علی ید انسان فان کان الحالف نوی وصول المتاع الیہ لایحنث لانہ نوی محتمل لفظہ وان لم ینو شیئا او نوی حملھا بنفسھا حنث، ولا تکون الیمین علی الوصول الا بالنیۃ الخ (ج3 صـ533 کتاب الطلاق ط: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0