میں ایک سافٹ وئیر ہاؤس میں کام کرتا ہوں جس میں ہم آرٹس سیل کرتے ہیں، لیکن جو ہم آرٹس سیل کرتےہیں اُس کو جعلی آئی ڈی سے سیل کرتےہیں،مثلاًلڑکیوں (کے نام)کی جعلی آئی ڈی بنا کر وہ آرٹس سیل کرنی ہوتی ہے، آپ مجھے بتائیں کہ یہ کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ مذکور آرٹس کس چیز پر مشتمل ہوتی ہیں اور ان کو جعلی آئی ڈیز کے ذریعے فروخت کرنا کیوں ضروری ہے ، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم اصولی طور پر یہ بات ذہن نشین رہے کہ مذکور آرٹس اگر غیر ذی روح اشیاء پر مشتمل ہوں یا جاندار اشیاء پر مشتمل ہوں، لیکن ان کو پرنٹ نکالنے کی نوبت نہ آئے اور نہ ہی اس میں کوئی شرعی خرابی (مثلاً نامحرم عورتوں یا برہنہ یا نیم برہنہ تصاویر وغیرہ) پائی جاتی ہوں تو ایسے آرٹس کو بیچنا اور اس کو ذریعہ معاش بنانا درست ہے، البتہ اس خرید و فروخت کےلئے جعلی آئی ڈی بنانا دھوکہ دہی کی بناء پر شرعاً جائز نہیں، اس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
کما فی سنن الترمذی: عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم قال: من غش فلیس منا (ج2،صـــ597)۔
وفی مشکاۃ المصابیح: وعن عائشۃ رضی اللہ تعالی عنھا عن النبي ﷺ قال: «أشد الناس عذابا يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله» متفق علیہ (ج2،صـــ1274)۔
وفی البحر الرائق: (قوله ولبس ثوب فيه تصاوير) لأنه يشبه حامل الصنم فيكره وفي الخلاصة وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لم يصل اهـ وهذه الكراهة تحريمية وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه - صلى الله عليه وسلم - «أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم» (إلی قولہ) فإن غير ذي الروح لا يكره كالشجر لما سيأتي اھ (ج2،صـــ29)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1