السلام عليكم ورحمۃ اللّٰہ ! مفتی صاحب ! میرا پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ حدیث صحیح اور قابلِ استدلال ہے ”وهو شهر أوله رحمة وأوسطه مغفرة وآخره عتق من النار“ ؟ اور اس حدیث کو بنیاد بنا کر رمضان کے مہینہ کو تیں تقسیم (رحمت ، مغفرت اور نجات) کرنا اور اللہ تعالی کی وسیع رحمت ، مغفرت اور نجات کوتخصیص کرنا کیسا ہے ؟ براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور حدیث اگرچہ سند کے لحاظ سے ضعیف ہے، مگر فضائل میں حدیثِ ضعیف بھی قابلِ قبول ہے، یہاں چونکہ کوئی فرض یا واجب ثابت نہیں کیا جا رہا، صرف رمضان کے عشروں کی فضیلت بیان کی گئی ہے، لہذا یہ حدیث قابلِ استدلال ہے۔ جبکہ حدیث کا معنی یہ ہے کہ رمضان ایسا مہینہ ہے جس کا اول حصہ رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ جہنم سے خلاصی کا ہے، یعنی مذکورہ حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رمضان کے صرف پہلے عشرے میں رحمت، اور دوسرے عشرے میں مغفرت، اور تیسرے عشرے میں جہنم سے خلاصی ہوتی ہے، بلکہ پورے مہینے میں رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات حاصل ہوتی ہے ، مقصود وقت کی فضیلت بیان کرکے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کی دعا مانگنے کی طرف متوجہ کرنا ہے۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح : وهو شهر أوله رحمة، وأوسطه مغفرة، وآخره عتق من النار. ومن خفف عن مملوكه فيه ؛ غفر الله له وأعتقه من النار الخ وفیھا ایضاً : (وهو) : أي : رمضان شهر أوله رحمة ) : أي : وقت رحمة نازلة من عند الله عامة، ولولا حصول رحمته ما صام ، (الی قوله) (وأوسطه مغفرة) : أي : زمان مغفرته المترتبة على رحمته، فإن الأجير قد يتعجل بعض أجره قرب فراغه منه (و آخره): وهو وقت الأجر الكامل (عتق) : أي : لرقابهم (من النار) : والكل بفضل الجبار وتوفيق الغفار للمؤمنين الأبرار للأعمال الموجبة للرحمة والمغفرة والعتق من النار. (ومن خفف) : أي في الخدمة (عن مملوكه فيه) : أي : في رمضان رحمة عليه وإعانة له بتيسير الصيام إليه. (غفر الله له) : أي : لما فعله قبل ذلك من الأوزار (وأعتقه من النار) : جزاء لإعتاقه المملوك من شدة العمل. قال ميرك: رواه ابن خزيمة في صحيحه وقال: إن صح الخبر، ورواه من طريقة البيهقي، ورواه أبو الشيخ ابن حبان في الثواب باقتصار عنهما اھ (کتاب الصوم ، ج: 4 ، ص: 456 ، ط: حقانیہ)ـ
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0