کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہ جو واقعہ مشہور ہے کہ آپﷺ رات کو جس برتن میں پیشاب فرماتے تھے رات کو ایک خاتون نے اس کو پی لیا، بعد میں پتہ چلا تو آپﷺ نے فرمایا کہ آپ کی اولاد کو کبھی پیٹ کی تکلیف نہ ہوگی، یعنی دعا دی تو کیا یہ واقعہ سچا ہے اور اس کا ثبوت کس کتاب سے ہے؟
سوال میں مذکور ترتیب کے مطابق تو باوجود تلاش کے ایسی کوئی حدیث مبارکہ نہیں مل سکی، البتہ احادیث مبارکہ میں اُمِّ ایمن ( جو آپﷺ کی باندی تھی) کے متعلق ایک مرتبہ کا ذکر ملتا ہے، جس کی مکمل وضاحت درج ذیل ہے:
حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ فرماتی ہیں کہ ایک رات کسی وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اٹھ کر کمرے میں ایک طرف پڑی ٹھیکری کے برتن کے پاس (جو آپﷺ کے لیے ہی بوقت ضرورت چھوٹے پیشاب سے فراغت کے واسطے تھا رکھا گیا تھا) تشریف لے گئے ،اس برتن میں آپ علیہ السلام نے پیشاب سے فراغت فرمائی، پھر میں اٹھی مجھے پیاس لگ رہی تھی، وہ پیشاب میں نے بے خیالی میں پی لیا اور محسوس بھی نہ ہوا کہ میں نے کیا چیز پی لی، جب صبح ہوئی تو آپﷺ نے فرمایا :کہ اے ام ایمن! ٹھیکری کو باہر جا کر انڈیل دو، میں نے عرض کیا وہ تو میں نے پی لیا ، فرماتی ہیں کہ آپﷺ بہت ہنسے اور پھر فرمایا کہ سُن لے اللہ کی قسم تجھے کبھی بھی پیٹ میں تکلیف نہ ہوگی۔واللہ أعلم بالصواب!
ففی المعجم الكبير للطبراني: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ، قَالَتْ: قَامَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ اللَّيْلِ إِلَى فَخَّارَةٍ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ فَبَالَ فِيهَا فَقُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ، وَأَنَا عَطْشَانَةُ فَشَرِبْتُ مَا فِيهَا، وَأَنَا لَا أَشْعُرُ فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَا أُمَّ أَيْمَنَ، قَوْمِي فَأَهْرِيقِي مَا فِي تِلْكَ الْفَخَّارَةِ» قُلْتُ: قَدْ وَاللهِ شَرِبْتُ مَا فِيهَا، قَالَتْ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا إِنَّكِ لَا تَتَّجِعِينَ بَطْنَكِ أَبَدًا» اھ(25/ 89) وأخرج الحاکم والدار قطنی والطبرانی وابونعیم من حدیث أم أیمن أیضاً هٰكذا۔
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0