پوچھنا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے زمانے میں احادیث کی جمع وترتیب نہیں ہوئی تھی ۔اور ہم اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ صحیح بخاری قرآن کریم کے بعد مستند اور مشہور کتاب ہے۔امام بخاریؒ آپﷺکے زمانے کے ایک صدی بعد پیدا ہوئے ۔امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ میں چھ لاکھ احادیث جانتا ہوں اور میں نے صرف چھ سے سات ہزار احادیث بخاری میں ذکر کی ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ باقی کی تمام احادیث یا تو ضعیف ہیں یا موضوع۔میرا سوال یہ ہے کہ امام بخاریؒ آپﷺکے زمانے کے ایک صدی بعد پیدا ہوئے اور اس کے علاوہ اور بھی محدثین کرام آئے تو یہ تمام محدثین کسی حدیث کے صحیح ہونے کے بارے میں کیسے جانتے ہیں ؟
اولاً تو سائل کی یہ بات درست نہیں کہ عہد رسالت اور عہد صحابہ میں احادیث کی جمع وترتیب نہیں ہوئی تھی ،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عہد رسالت میں صحابہ کرام کی ایک جماعت احادیث کو قلمبند کرتی رہی ،جن میں ایسے صحابہ بھی ہیں ، جنہوں نے احادیث کا ایک بڑاذخیرہ رسول اللہ ﷺسے سن کر قلمبند کیا ، نیز احادیث کا ذخیرہ ایسا ہے جو خود رسو ل اللہ ﷺنے املاء کرایا ، اور صحابہ کرام نے اسے محفوظ کیا اور یہی سلسلہ عہد صحابہ میں بھی چلتا رہا، اور پھر تیسری صدی میں باقاعدہ احادیث کی کتابیں لکھی گئیں ۔ جبکہ صحیح بخاری میں ذکر کی گئی احادیث کے علاوہ بھی صحیح احادیث موجود ہیں اور انہوں نے ساری صحیح احادیث کا احاطہ نہیں کیا ، بلکہ انہوں نے اطمینان کیلیے کچھ کڑی شرائط وضع کی تھیں ، چناچہ جو احادیث ان شرائط پر اتریں ،ان کو اپنی کتاب الجامع الصحیح میں ذکر کیا ۔جبکہ احادیث مبارکہ جتنی بھی آئیں ،وہ معلوم واسطوں سے آئی ہیں ،اور جن افراد کے واسطے سے آئیں، ان کے تمام حالات محفوظ ہیں ، جن کی بنیادپر راویان حدیث کو ضعیف یا وضاع قرار دیا گیا اور احادیث مبارکہ کی وہ قسمیں وجود میں آئیں ۔
ففی الباعث الحثیث شرح اختصار علوم الحدیث : ورواہ ابو داؤد و الحاکم وغیرھما عن عبد اللہ عمرو بن العاص قال: قلت یا رسول اللہ، إنی سمع منك الشیئ فاکتبه؟ قال نعم: قال فی الغضب والرضا؟ قال نعم، فإنی لا اقول فیھما إلاحقا (ص:112)
وفیه ایضا: وھذاالفن من أھم العلوم و اعلاھا و أنفعھا، إذبه تعرف سند الحدیث من ضعفه الخ (ص: 207) ۔
وفی تدریب الراوی: ( ولم يستوعبا الصحيح ) في كتابيهما (ولا التزماه) أي استيعابه ، فقد قال البخاري: ما أدخلت في كتاب «الجامع» إلا ما صح ، وتركت من الصحاح مخافة الطول، وقال مسلم: ليس كل شيء عندي صحيح وضعته ههنا، إنما وضعت ما أجمعوا عليه، يريد ما وجد عنده فيها شرائط الصحيح المجمع عليه، وإن لم يظهر اجتماعها في بعضها عند بعضهم اھ (2/57)۔ والله أعلم بالصواب
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0