کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس شخص کے بارے میں کہ جو جمعہ کی تقریر میں ممبر پر بیٹھ کر یہ کہے کہ ’’امتِ مصطفیٰﷺ کے علماء کے درجات بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں‘‘۔
پھر جب اس سے استفسار کیا کہ کس دلیل کے تحت آپ نے یہ بات کہی تو جواباً وہ اس کی دلیل یہ دے کہ قرآنِ مجید میں نبی کریم کے علماء کی شان میں ہے کہ
’’﴿ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّہ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیر﴾ (المجادلۃ: 11)‘‘
دوسری دلیل یہ کہ روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے امتِ مصطفیٰﷺ کے درجات دیکھنے کے بعد یہ تمنا کی تھی کہ اللہ عزوجل انہیں بھی امتِ مصطفیٰﷺ میں شامل فرما لے۔( تفسیر ابن کثیر)
ان باتوں کے بعد کیا ایسے شخص کا ایمان باقی رہا؟ اور کیا وہ قوم کی امامت وخطابت کا اہل ہے؟
اگر آپ کے موصوف امام نے اس قسم کا بیان کیا ہے تو اس کے باوجود وہ مؤمن بھی ہے اور اس کے پیچھے نماز بھی جائز ہے، تاہم امام موصوف کو چاہیے کہ واضح اور پختہ دلیل و ثبوت کے بغیر عوام الناس میں اس قسم کی باتیں بیان کرنے سے احتراز کرے، جبکہ مقتدیوں کو بلاوجہ اپنے امام سے بدگمان ہونے کی ضرورت نہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ جس حدیث ’’عُلَمَاءُ أُمَّتِی کأَنْبِیاءِ بَنِی إِسْرَائیلَ‘‘ کی طرف امام موصوف نے اشارہ کیا ہے، وہ ذیل میں علامہ سیوطیؒ کے حوالے سے نقل کی گئی ہے، مگر اس میں شک نہیں کہ اُمتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے فضائل و درجات بہت زیادہ ہیں، اور یہ دیگر صحف اور کتبِ سماویہ میں بھی پائے جاتے ہیں، لیکن اس سب کے باوجود کسی بھی امتی کا درجہ کسی بھی نبی اور رسول سے بڑا نہیں سکتا۔ جیسا کہ شرح العقائد النسفیہ کی عبارت سے بھی بخوبی معلوم ہو رہا ہے۔
اور جہاں تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے تو وہ اس امت کے مرتبہ و مقام اور علوِّ شان و درجات کو بیان کرنا مقصود ہے، کہ خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کی ختمِ نبوت کے طفیل جو عظیم ذمہ داری سونپی گئی ہے اس کی وجہ سے یہ انبیاء والی ذمہ داری میں شامل ہو گئی ہے۔ گو کہ ان میں سے ہر فرد کی طرف وحی نہیں آتی، وحی صرف انبیاء کی طرف آتی ہے، اور قربت بذریعہ وحی ایسا مقام ہے جسے پوری امت مجتمع ہو کر بھی حاصل نہیں کر سکتی، مگر مسئول تو بہر حال ہو گئی ہے۔ جس کا ثبوت کئی ایک روایات سے بھی ملتا ہے، اس لیے مقتدیوں کو بِلاوجہ پریشان ہونے کی بھی ضررورت نہیں۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ (آل عمران: 110)-
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا﴾ (البقرة: 143)-
و فی تفسير ابن كثير: وَقَالَ قَتَادَةُ: فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أَخَذَ الألْوَاحَ﴾ قَالَ: رَبِّ، إِنِّي أجدُ فِي الْأَلْوَاحِ أُمَّةً خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ، يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ، فَاجْعَلْهُمْ أُمَّتِي. قَالَ: تِلْكَ أُمَّةُ أَحْمَدَ. (إلی قوله) قَالَ: قَتَادَةُ فَذُكِرَ لَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ مُوسَى (عَلَيْهِ السَّلَامُ) نَبَذَ الْأَلْوَاحَ، وَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أُمَّةِ أَحْمَدَ۔ (3/ 479،478)-
وفی شرح نخبة الفکر للعلامة القاری رحمه اللہ: "عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ". قال السوطیؒ فی الدرر: لا أصل له الخ (ص: ۲۸۶) -
وفی شرح العقائد للنسفی: (وأفضل البشر بعد نبینا) والأحسن أن یقال بعد الأنبیاء الخ (ابوبکر الصدیق الخ) (ص: ۱۴۹)-
و فی مجموعة قواعد الفقه: ألوحی اصله الإشارة الخفیة السریعة، و اصطلاحاً یقال للکملة الإلٰھیة التی تلقیٰ إلی نبی من الأنبیاء وقد انقطع بخاتم النبینﷺ۔ (ص:۵۴۱)-
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0