کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیان ِعظام اس حدیث کے بارے میں کہ ’’حضورﷺ کے پاس ایک صحابی آئے اور کہنے لگے یارسول اللہﷺ میرا باپ مجھ سے پوچھتا تک نہیں اور میرا مال خرچ کر لیتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا، اچھابلاؤ! اس کے باپ کو پتہ چلا کہ میرے بیٹے نے بارگاہِ نبوت میں میری شکایت کی ہے تو انہوں نے دکھ اور رنج کے کچھ اشعار دل میں پڑھے، زبان سے ادا نہیں کیے، جب حضورﷺ کے پاس پہنچے تو ادھر جبرائیلِ امین آگئے، کہنے لگے یا رسول اللہ! اللہ فرما رہے ہیں کہ اس سے فرمائیں پہلے وہ اشعار سنائے جو تمہاری زبان پر نہیں آئے، بلکہ تمہارے دل نے پڑھے ہیں اور اللہ نے عرش پر ہوتے ہوئے بھی ان کو سن لیا ہے۔
حضورﷺ کی فرمائش پر وہ صحابی کہنے لگے یا رسول اللہ! قربان جاؤں آپ کے رب پر وہ کیسا رب ہے، میرے اندر تو ایک خیال آیا تھا اللہ نے وہ بھی سن لیا فرمایا: اچھا پہلے وہ اشعار سناؤ پھر تمہارے مقدمہ کا فیصلہ کریں گے۔ یہ اشعار عربی میں ہیں ان کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے :
ترجمہ: میں نے تجھے بچپن میں غذادی اور جو ان ہونے کے بعد بھی تمہاری ذمہ داری اٹھائی تمہارا سب کھانا پینا میری ہی کمائی سےتھا۔
جب کسی رات میں تمہیں کوئی بیماری پیش آگئی تو میں نے تمام رات تمہاری بیماری کے سبب بیداری اور بے قراری میں گذاری۔
گویا کہ تمہاری بیماری مجھے ہی لگی ہے تمہیں نہیں، جس کی وجہ سے میں تمام شب روتا رہا۔
میرا دل تمہاری ہلاکت سے ڈرتا رہا، حلانکہ میں جانتا تھا کہ موت کا دن مقرر ہے پہلے پیچھے نہیں ہو سکتی۔
پھر جب تم اس عمر اور اس حد تک پہنچ گئے جس کی میں تمنا کیا کرتا تھا۔
تو تم نے میرا بدلہ سختی اور سخت کلامی بنا دیا گویا کہ تم ہی مجھ پر احسان و انعام کر رہے ہو۔
کاش کہ تم سے میرے باپ ہونے کا حق ادا نہیں ہو سکتاتو کم از کم ایسا ہی کر لیتے، جیسا ایک شریف پڑوسی کیا کرتا ہے۔
تو کم از کم مجھے پڑوسی کا حق حکم تو دیا ہوتااور خود میرے ہی مال میں میرے حق میں بخل سے کام نہ ہوتا۔
رسول اللہﷺ نے یہ اشعار سننے کے بعد بیٹے کا گریبان پکڑ لیا اور فرمایا’’أنت ومالك لأبيك‘‘ یعنی جا تو بھی اور تیرا مال بھی سب باپ کا ہے۔(ترجمہ ماخوذ از معارف القرآن)
مذکور حدیث ملاّ علی قاریؒ نے مرقاۃ المفاتیح میں طبرانی اور بیہقی کے حوالہ سے نقل فرمائی ہے جس کی عربی عبارت درج ذیل ہے:
ففی مرقاة المفاتيح: " وأخرج الطبراني في الأصغر، والبيهقي في دلائل النبوة، وعن جابر: «جاء رجل إليه - صلى الله عليه وسلم - فقال: يا رسول الله إن أبي يريد أن يأخذ مالي، فقال - عليه الصلاة والسلام -: " ادعه لي "، فلما جاء قال - عليه الصلاة والسلام - " إن ابنك يزعم أنك تأخذ ماله " فقال " سله هل لعمته وقراباته أو لما أنفقه على نفسي وعيالي؟ قال: فهبط جبريل - عليه الصلاة والسلام - قال: يا رسول الله إن الشيخ قال في نفسه شعرا لم تسمعه أذناه ; فقال - عليه الصلاة والسلام: (قلت في نفسك شعرا لم تسمعه أذناك ; فهاته " فقال: لا نزال يزيدنا الله بك بصيرة ويقينا ثم أنشأ يقول:
غذوتك مولودا ومنتك يافعا ... تعل بما أجني عليك وتنهل
إذا ليلة ضاقتك بالسقم لم أبت ... لسقمك إلا سامرا أتململ
تخاف الورى نفسي عليك وإنها ... لتعلم أن الموت حتم موكل
كأني أنا المطروق دونك بالذي ... طرقت به دوني فعيناك تهمل
كأني أنا المطروق دونك بالذي ... إليك مراما فيك قد كنت آمل
جعلت جزائي غلظة وفظاظة ... كأنك أنت المنعم المتفضل
فليتك إذ لم ترع حق أبوتي ... فعلت كما جار المجاور يفعل
قال: فبكى - عليه الصلاة والسلام - ثم أخذ بتلابيب ابنه وقال: " اذهب أنت ومالك لأبيك» "(5/ 1898) والله أعلم بالصواب!
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0