السلام علیکم !میں نے مفتی طارق مسعود صاحب کی ایک ویڈیو دیکھی ، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں ، تو ان کے علاج کے لئے سندھ سے ایک ڈاکٹر گیا اور ان کا کہنا ہے کہ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے ، میری آپ سے گزارش ہے کہ بخاری میں کوئی ایسی حدیث ہے ؟ اور اگر ہے تو کیا صحیح ہے؟
با وجود تلاش بسیار کے ایسی کوئی حدیث بخاری شریف میں نہیں ملی، اس حوالے سے مذکور مفتی صاحب سے رجوع کیا جائے ، وہی اس میں بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں ، البتہ اس سے ملتی جلتی ایک روایت مؤطا امام مالک و دیگر کتبِ حدیث میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہے ، جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جادو کی تشخیص کرنے والے شخص کے بارے میں صراحت ہے کہ اس کا تعلق سندھ سے تھا، شاید مفتی صاحب نے سبقتِ لسانی سےمؤطا امام مالک کے بجائے بخاری شریف کا نام ذکر کیا ہو ، اس لئے اس روایت کو بلا تحقیق بالجزم " صحیح بخاری شریف" سے منسوب کر کے بیان کرنا درست نہیں ، اس سے احتراز چاہیئے۔
كما في الموطأ لمالك : حدثنا أبو مصعب، قال: حدثنا مالك، عن أبي الرجال محمد بن عبد الرحمن، عن أمه عمرة عن عائشة رضي الله عنها، أنها أعتقت جارية لهاعن دبر منها ثم إن عائشة مرضت بعد ذلك ما شاء الله فدخل عليها سندي فقال: انك مطبوبة. فقالت: من طبني؟ قال: امرأة من نعتها كذا وكذا فوصفها وقال: في حجرها صبي قد بال فقالت عائشة: ادعوا لي فلانة لجارية لها تخدمها" فوجدوها في بيت جيران لها في حجرها صبي قد بال فقالت: حتى أغسل بول هذا الصبي فغسلته ثم جاءت فقالت لها عائشة: أسحرتيني؟ فقالت: نعم. فقالت: لم؟ قالت: احببت العتق. فقالت عائشة: احببت العتق فوالله لا تعتقي أبدا " فأمرت عائشة ابن أخيها أن يبيعها من الأعراب ممن يسىء ملكتها. قالت: ثم ابتع لي بثمنها رقبة حتى أعتقها. ففعل قالت عمرة: فلبثت عائشة ما شاء الله من الزمان ثم أنها رأت في النوم اغتسلي من ثلاثة آبار يمد بعضها بعضا فإنك تشفين قالت عمرة: فدخل على عائشة إسماعيل بن عبد الله بن أبي بكر وعبد الرحمان بن سعد بن زرارة فذكرت لهما عائشة التي رأت فانطلقا إلى قناة فوجدا آبارا ثلاثا يمد بعضها بعضا فاستقوا من كل بئر منها ثلاث شجب حتى ملؤا الشجب من جميعهن ثم أتوا به عائشة فاغتسلت به، فشفيت ( باب ما جاء في بيع المدبر، ج 2، ص 422، رقم : 2782، ط : مؤسسة الرسالة، بيروت)-
و في المهيأ في اسرار الموطأ : إن عائشة (إلى قوله) مرضت ما شاء الله أي: مدة شاء الله تعالى أن تشتكي ثم دخل عليها وفي نسخة: إنه أي: الشأن دخل عليها أي: على عائشة رضي الله عنها رجل سِنْديّ، بكسر السين المهملة وسكون النون وكسر الدال نسبة إلى السند من بلاد الهند، كانت في الإِقليم الثالث من الأقاليم السبعة ( باب بيع المدبر، ج 4، ص 143، ط : دار الحديث القاهره)-
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0