کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمٰی معاذ ولد شمس العارفین کا نکاح مسمٰی عائشہ بی بی بنت سخی محمد سے تین سال قبل ہوگیا تھا، اس نکاح سے ہماری ایک بیٹی بھی ہے، گزشتہ رمضان میں میری بیوی مجھے نیند سے اٹھا رہی تھی ، جس پر مجھے غصہ آیا اور میں نے کہا کہ اگر تم نے مجھے آواز دی تو تم مجھ پر طلاق ہوگی، " تہ مالہ آواز را کہ نو پہ ما بہ طلاقہ ئے " لیکن میری بیوی نے پھر بھی مجھے آواز دی ، پھر میں نے دوبارہ کہا کہ اگر اب تم نے مجھے آواز دی تو تم مجھ پر طلاق ہوگی، لیکن بیوی نے اس کے بعد بھی آواز دی، اس کے بعد بھی ہم بدستور میاں بیوی کی طرح رہتے رہے، ابھی کچھ عرصہ پہلے موبائل کی وجہ سے کچھ ایشو ہوا تو میں نے بیوی کو کہا کہ "اگر تم نے میرے موبائل سے اپنی امی سے بات کی، تو تم مجھ پر طلاق ہوگی، " کہ تا زما پہ موبائل خپلے مور سرہ خبرے او کڑے نو پہ ما بہ طلاقہ ئے " اور اس کے بعد اب تک میری بیوی نے میرے موبائل سے اپنی امی سے کوئی بات نہیں کی، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر میری بیوی اپنی امی سے بغیر موبائل کے بات کرے گی یا میرے موبائل کے علاوہ کسی اور موبائل سے بات کرے گی تو کیا طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ جو بھی شرعی حکم ہو تفصیل سے تحریر فرمائیں۔
سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " تہ مالہ آواز را کہ نو پہ ما بہ طلاقہ ئے " دو مرتبہ کہہ دیے اور سائل کی بیوی نے اس کے باوجود سائل کو آواز دیدی تو اس سے سائل کی بیوی پر معلق دونوں طلاقیں واقع ہوچکی تھیں ، چنانچہ اگر دورانِ عدت میاں بیوی والا تعلق قائم کرلیا ہو تو اس سے رجوع درست ہو کر دونوں کا نکاح برقرار ہے، جبکہ حالیہ واقعہ میں جب سائل نے مذکور الفاظ " کہ تا زما پہ موبائل خپلے مور سرہ خبرے او کڑے نو پہ ما بہ طلاقہ ئے " کہہ دیے تو اس سے تیسری طلاق معلق ہوچکی ہے، چنانچہ اگر سائل کی بیوی اس کے موبائل سے اپنی امی سے بات چیت کرے گی تو اس سے اُس پر معلق تیسری طلاق واقع ہو کر مجموعی طور پر تین طلاقوں کے ذریعہ حرمتِ مغلظہ ثابت ہوجائے گی، البتہ اگر بیوی سائل کے موبائل کے علاوہ بغیر موبائل یا کسی اور موبائل وغیرہ کے ذریعہ اپنی امی سے بات چیت کرے گی تو اس سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، لہٰذا آئندہ اس معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
و فی الھندیۃ: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق الخ ( فصل فی تعلیق الطلاق ج 1 ص420 ط: ماجدیۃ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0